تاثیر 3 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
غزہ،03فروری:غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں روکنے سے لاکھوں فلسطینی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پہلے سے تباہ حال علاقے میں انسانی المیہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے سیکریٹری جنرل کرسٹوفر لوکیئر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تنظیم کی سرگرمیاں روکنے کا اسرائیلی فیصلہ علاقے کے عوام کے لیے “تباہ کن نتائج” کا باعث بنے گا۔یہ انتباہ اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ فروری کے اختتام پر محصور اور تباہ حال غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سرگرمیاں معطل کر دے گا، کیونکہ تنظیم نے اپنے فلسطینی ملازمین کے ناموں کی فہرست فراہم نہیں کی۔
تنظیم نے اس فیصلے کو انسانی امداد کو غزہ تک پہنچنے سے روکنے کا “بہانہ” قرار دیا ہے۔پیر کے روز جنیوا میں تنظیم کے صدر دفتر میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں لوکیئر نے کہا:صرف سال 2025 کے دوران ہم نے 8 لاکھ سے زائد طبی مشورے فراہم کیے، ایک لاکھ سے زیادہ زخمیوں کا علاج کیا اور غزہ میں 700 ملین لیٹر سے زائد پانی فراہم کیا۔انہوں نے مزید کہا:ہم ایسے مرحلے پر ہیں جہاں فلسطینی عوام کو مزید انسانی امداد کی ضرورت ہے، کم امداد کی نہیں۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی سرگرمیوں کا رک جانا غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی انسانی تنظیموں پر عائد شرائط مزید سخت کر رہا ہے۔

