تاثیر 3 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع کے مشہور شہر کوٹ دوار میں پیش آنے والا ایک واقعہ ملک بھر میں ہم آہنگی اور انسانی اقدار کا ایک خوبصورت اور طاقتور پیغام بن کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ 26 جنوری، 2026 کو 70 سالہ بزرگ دکاندار حاجی وکیل احمد کی تیس سال سے چلی آ رہی دکان ’’بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سنٹر‘‘ پر ایک گروپ نے شدید اعتراض اٹھایا۔ یہ گروپ خود کو بجرنگ دل سے منسلک بتارہا تھا۔ اس کا موقف تھا کہ لفظ ’’بابا‘‘ ہندو مذہبی شخصیات اور روایات سے مخصوص ہے، لہٰذا، اسے کوئی مسلمان استعمال نہیں کر سکتا ہے۔ یہ اعتراض جلد ہی ہراسانی اور اشتعال انگیزی میں تبدیل ہو گیا۔ دکان کے سامنے نعرے لگائے جانے لگے، ہنگامہ آرائی ہوئی اور دکاندار کو دباؤ ڈال کر نام تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی زبردست کوشش شروع ہو گئی۔
اسی نازک لمحے میں ایک مقامی جم مالک دیپک کمار کشیپ نے بے خوف ہو کر مداخلت کی۔ وائرل ویڈیوز میں وہ ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز میں پوچھتے نظر آ رہے ہیں: ’’اگر دوسرے لوگ بابا کا نام استعمال کر سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘ جب بھیڑ میں سے ایک شخص نے ان کا نام پوچھا تو دیپک نے نہایت سکون اور اعتماد کے ساتھ جواب دیا: ’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘ یہ ایک لمحاتی جملہ نہیں تھا۔ یہ مذہبی منافرت اور نفرت کی سیاست کے خلاف ایک زوردار احتجاج تھا، ہندو مسلم بھائی چارے کی طرفداری تھی اور بھارت کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کی زندہ جاوید بقا کا کھلّم کھلّا اعلان تھا۔
یہ واقعہ محض دو افراد کے درمیان تصادم نہیں بلکہ پورے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ پولرائزیشن اور سماجی تقسیم کی ایک واضح عکاسی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس واقعے کو چند گھنٹوں میں وائرل کر دیا اور پھر دیپک کمار کو ’’بھائی چارے کا ہیرو‘‘، ’’امن کا سفیر‘‘ اور ’’انسانی اقدار کا علمبردار‘‘ جیسے القابات سے نوازنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگوں نے اسے ایک امید کی کرن قرار دیا کہ نفرت کے اس دور میں بھی محبت اور اتحاد کے پیغامات کو مضبوطی کے ساتھ عملی طور پر عام کرنے والے لوگ موجود ہیں۔
تاہم اس مثبت پیغام کے ساتھ ساتھ کچھ تلخ حقائق بھی سامنے آئے۔ دیپک کو متعدد دھمکیاں موصول ہوئیں، ان کے گھر کے باہر ہجوم جمع ہوا اور صورتحال سنبھالنے کے لئے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ سب سے افسوسناک بات یہ کہ ابتدائی طور پر پولیس نے ہراساں کرنے والوں کے سامنے خاموشی اختیار کی اوربعد میں دیپک کمار کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کی۔ بعد میں عوامی دباؤ اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز کی وجہ سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ یہ واقعے سے ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ جب نفرت پھیلانے والے کھلے عام سرگرم ہوتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل اتنا سست اور یک طرفہ کیوں ہو جاتا ہے؟
اتراکھنڈ میں حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مسلمان دکانداروں کو نشانہ بنانا، ان کی دکانوں پر دباؤ ڈالنا، نام تبدیل کرانے کی کوششیں اور روزمرہ زندگی میں امتیازی سلوک کے واقعات اب کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔ مئی 2025 میں نینی تال میں ایک کمسن لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج کے دوران بھی فرقہ وارانہ نعرے لگائے گئے تھے اور مسلمانوں کو ہدف بنانے کی بھر پر کوششیں ہوئی تھیں۔ اس موقع پر شیلا نیگی نامی ایک ہندو خاتون نے بے خوف ہو کر ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا: ’’یہ معاملہ فرقہ وارانہ نہیں بننا چاہئے۔ ہم ہندو اور مسلمان ایک ہیں۔‘‘ ان کے ویڈیوز بھی وائرل ہوئے اور انہیں بھی بے پناہ پذیرائی ملی تھی۔
مذکورہ دونوں واقعات ایک ہی بات واضح کرتے ہیں کہ نفرت اور تقسیم پھیلانے والے عناصر معاشرے میں اقلیت میں ہیں۔ دیپک کمار اور شیلا نیگی جیسےبے شمار لوگ ان کے سامنے ایک چیلنج بن کر کھڑے ہیں۔وہ عملی طور پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ عام شہری اب بھی ہم آہنگی، بھائی چارہ اور انسانی اقدار کو سب سے مقدم رکھتے ہیں۔ دیپک خود کہتے ہیں: ’’میں پہلے انسان ہوں، پھر مذہب آتا ہے۔‘‘ یہ جملہ آج کے دور میں سب سے زیادہ طاقتور پیغام ہے۔ایسے میں حکومت، انتظامیہ اور پولیس کی بھی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ نفرت پھیلانے والے گروہوں پر سخت ترین کارروائی کی جائے اور ہر شہری کے تحفظ، وقار اور روزگار کو یقینی بنایا جائے۔ سوشل میڈیا تو ایک دو دھاری تلوار ہے: ایک طرف یہ نفرت کو تیزی سے پھیلاتا ہے، تو دوسری طرف محبت، اتحاد اور امید کے پیغامات کو بھی چند لمحوں کے دوران دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا دیتا ہے۔
الغرض، ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ گنگا جمنی تہذیب ہماری قومی شناخت کا سب سے قیمتی جوہر ہے۔ یہ وہ تہذیب ہے، جو گنگا اور جمنا کی طرح ایک دوسرے میں مل کر بہتی ہے، ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہے۔ دیپک اور شیلا جیسے لوگ اس تہذیب کی زندہ اور روشن مشعلیں ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب بھی اس مشعل کو تھامیں، اسے مزید روشن کریں اور ہر سطح پر بھائی چارے، باہمی احترام اور مشترکہ وراثت کے جذبے کو مضبوط کریں۔یہ وقت ہے کہ ہم سب ’’محمد دیپک‘‘ بنیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم مل کر اس ملک کی ساجھی سنسکرتی اور ساجھی وراثت کی روایت کو نہ صرف زندہ رکھیں بلکہ اسے نئی نسلوں تک پہنچائیں۔ صرف اسی طرح ہم ایک پرامن، متحد، مضبوط اور خوشحال بھارت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

