تاثیر 3 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں, 3 فروری : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز کہا کہ موجودہ دور میں ایسے اساتذہ کی اشد ضرورت ہے جو طلبہ کو مستقبل کی غیر یقینی صورتحال، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز کے لیے تیار کر سکیں اور انہیں اختراع، تحقیق اور قیادت کی جانب راغب کریں۔لیفٹیننٹ گورنر گاندھی نگر، جموں میں واقع پدم شری پدمہ سچدیَو گورنمنٹ کالج برائے خواتین میں منعقدہ انسپائریشنل ٹیچرز ایوارڈ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جموں کے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے 101 ممتاز اور متاثر کن اساتذہ کو اعزازی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اپنے خطاب میں منوج سنہا نے تدریسی برادری کے کردار کو قوم کی تعمیر میں کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ ہی وہ بنیاد فراہم کرتے ہیں جو طلبہ کے کردار کو سنوارتی اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے اساتذہ کا وژن اور ان کا اندازِ تدریس نہایت اہم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ متاثر کن اساتذہ رٹے بازی کے بجائے تجسس کو فروغ دیتے ہیں اور تعلیم کو محض نصابی مواد تک محدود نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق، ایسے اساتذہ سائنس کو دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں، تاریخ کو زندہ واقعات کی صورت میں بیان کرتے ہیں اور طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور تحقیق کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلاس روم صرف چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں مستقبل کی تشکیل ہوتی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو غیر فعال سامعین کے بجائے متحرک اور تجزیہ کرنے والا فرد بنائیں تاکہ ایک مضبوط علم پر مبنی معیشت اور متحرک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ کلاس رومز میں اشتراک اور ٹیم ورک کی ثقافت کو فروغ دیں، کیونکہ مستقبل کی دنیا میں اجتماعی کاوش اور تعاون کامیابی کی کنجی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، تحریر اور اختراع کو اجتماعی جدوجہد کے طور پر فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

