تاثیر 5 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
رپورٹ: محمد نعیم
ہوڑہ میونسپل کارپوریشن اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف کارپوریشن کی اپنی آمدنی تقریباً نچلی سطح پر آ چکی ہے، تو دوسری طرف انجینئروں اور افسران کی شدید کمی کے باعث بیشتر محکمے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ شہری سہولیات کا تصور ہی جیسے معدوم ہوتا جا رہا ہے، اور عام شہری پچھلے سات برسوں سے بغیر بلدیاتی انتخابات کے چلنے والے اس شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، جگہ جگہ بکھرے کچرے، ابلتے نالوں، غیر قانونی پارکنگ اور بے قابو غیر مجاز عمارتوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
کارپوریشن ذرائع کے مطابق جائیداد ٹیکس، میوٹیشن، لائسنس اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ جیسے محکمے، جو کبھی آمدنی کے بڑے ذرائع تھے، رواں مالی سال میں اپنے متوقع ہدف کا 40 فیصد بھی حاصل نہیں کر سکے۔ بلدیہ کے ملازمین کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ گزشتہ تیس برسوں میں کبھی کارپوریشن کی مالی حالت اتنی خراب نہیں رہی۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ آئندہ مالی سال میں ساڑھے تین ہزار عارضی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔
ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “کارپوریشن کی اپنی آمدنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ فی الحال ہمیں مکمل طور پر سرکاری گرانٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی انجینئروں کے ریٹائر ہونے سے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی آمدنی میں زبردست کمی آئی ہے۔ آن لائن ادائیگی کا نظام ہونے کے باوجود تکنیکی خرابیوں کے باعث لائسنس، میوٹیشن اور جائیداد ٹیکس کی وصولی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔”
لیکن سوال یہ ہے کہ ہاوڑہ میونسپل کارپوریشن کی یہ حالت کیوں ہوئی؟ کارپوریشن کے ایک سینئر ملازم کے مطابق “سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے سات برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ محکمۂ شہری ترقی اور بلدیاتی امور کی جانب سے ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ سیاسی وجوہات کے سبب بار بار چیئرپرسن اور میونسپل کمشنروں کا تبادلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں شہری خدمات کا نظام بار بار زمین بوس ہوتا رہا ہے۔”
ذرائع کے مطابق مختلف محکموں میں خالی آسامیوں پر مستقل افسران کی تقرری کے بجائے محکمۂ شہری ترقی نے کثیر سالہ مدت کے دوران کے ایم ڈی اے سے آٹھ انجینئر اور افسران ڈیپوٹیشن پر کارپوریشن میں تعینات کیے۔ تاہم الزام ہے کہ یہ افسران محض رسمی طور پر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ریونیو میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہو سکا۔
کارپوریشن کے ایک اعلیٰ انجینئر نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “سڑکوں کی تعمیر سے لے کر دیگر اہم کاموں تک، جس انداز میں تمام ذمہ داریاں کے ایم ڈی اے کو سونپی جا رہی ہیں، وہ کئی سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ حال ہی میں محکمۂ شہری ترقی کی جانب سے ایک نوٹ کے ذریعے میونسپل کمشنر سے پوچھا گیا کہ اگر شہر کی صفائی کی مکمل ذمہ داری کے ایم ڈی اے کو دے دی جائے تو کیا انہیں کوئی اعتراض ہوگا؟ اس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کا مکمل کنٹرول آہستہ آہستہ کے ایم ڈی اے کے ہاتھ میں تو نہیں جا رہا ہے۔ کیا ہم سب اپنی نوکریاں کھو بیٹھیں گے؟”
اگرچہ ان سوالات کا فوری جواب سامنے نہیں آیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہوڑہ شہر میں سڑکوں کی مرمت سے لے کر پینے کے پانی کی فراہمی تک، تقریباً تمام بڑے کام محکمۂ شہری ترقی کے ماتحت کے ایم ڈی اے کے ذریعے ہی کرائے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال پر کارپوریشن کے افسران اور ملازمین میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں کے ایم ڈی اے کو کروڑوں روپے کے منصوبے دیے جا رہے ہیں، وہیں فنڈز کی کمی کے باعث ہوڑہ میونسپل کارپوریشن کے افسران، انجینئر اور ملازمین عملاً کوئی کام کرنے سے قاصر ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بلدیہ کا خزانہ دن بہ دن خالی ہوتا جا رہا ہے۔

