تاثیر 6 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے خلاف دہلی میں زبردست مورچہ کھول کر اپنی جارحانہ سیاسی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں خود موجود رہنے سے لے کر الیکشن کمیشن سے ملاقات تک، اپنے تین روزہ دورے (2 سے 4 فروری )کے دوران انھوں نے مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، مخالف جماعتیں ان کے اس قدم کو محض ڈرامہ اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیتی رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے 2025 کی ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے ریاست میں 4 نومبر سے خصوصی مہم شروع کی ہے۔اس کا مقصد ڈپلیکیٹ، غلط یا غیر موجود ووٹرز کو ہٹانا ہے۔فہرست میں موجود تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ووٹرزکو مشکوک پایا گیا ہے، جن میں سے کئی کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ یہ عمل ہڑبڑی میں کیا جا رہا ہے، جس سے جائز ووٹرز، خاص طور پر غریب اور اقلیتی طبقات، متاثر ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے بذات خود سپریم کورٹ میں کہا کہ 58 لاکھ نام ہٹائے جا چکے ہیں، جن میں زندہ لوگوں کو مردہ قرار دیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ دو سال کا کام دو ماہ میں کیسے ممکن ہے، اور آسام جیسی ریاستوں میں یہ کیوں نہیں ہو رہا؟ بظاہریہ الزامات مرکزی حکومت پر’’انتقام کی سیاست‘‘ کا تاثر دینے جیسے لگتے ہیں، خاص طور پر جب بنگال میں بی جے پی کی توسیع کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ یہ ایک معمول کا عمل ہے جو شفافیت کو یقینی بناتا ہے اور غیر قانونی اندراجات کو روکتا ہے۔
ممتا بنرجی کے سیاسی مزاج سے واقف تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان کی یہ حکمت عملی ایس آئی آر معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے کی ہے، جو ان کی روایتی اسٹریٹ فائٹر امیج سے مطابقت رکھتی ہے۔ دہلی دورے کے دوران، انہوں نے اپنی وکالت کی ڈگری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 4 فروری کو سپریم کورٹ میں پانچ منٹ تک اپنے موقف کی حمایت میں دلائل پیش کر کے ایک تاریخ رقم کی تھی۔ ایس آئی آر کی لڑائی کو مغربی بنگال سے لیکر دہلی تک خود لڑنا، معاملے کی سماعت کے دوران سیاہ لباس پہن کر سپریم کورٹ میںپیش ہوکر خود بحث میں حصہ لینا اور بنگ بھون میں متاثرین سے ملاقات کرنا یہ سب وہ سیاسی اقدامات ہیں،جو براہ راست عوامی جذبات کو متحرک کرتے ہیں۔ساتھ ہی اسمبلی انتخابات سے دو ماہ قبل عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ ممتا بنرجی ہی ان کی اصلی محافظ ہیں۔ اسی طرح، سیاسی تجزیہ کار وشنو چکرورتی کا کہنا ہے کہ ہندو خواتین کو ساتھ رکھ کر ممتا نے الزامات کو متوازن کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ کوئی یہ نہیں کہہ سکے وہ صرف اقلیتوں کے لئے لڑتی ہیں۔
دوسری طرف، بی جے پی اور دیگر مخالفین ا س قدم کو ’’ڈرامہ بازی‘‘ اور’’بے بنیاد الزامات‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر سمیک بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ یہ 15 سالہ حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جیسے آنندپور آگ لگنے کا واقعہ۔ الیکشن کمیشن نے بھی ممتا بنرجی کے الزامات کو جھوٹا قرار دیاہے۔کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر ایک معمول کا عمل ہے، جو شفافیت کےلئے بے حد ضروری ہے۔
یہ حقیقت بھی ہے کہ ایس آئی آر نہ صرف بنگال بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ہو رہی ہے، اور اس کا مقصد ووٹرز لسٹ کو شفاف بنانا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ممتا سرحد پار سے آنے والوں کو تحفظ دے رہی ہیں، جو بنگال کی آبادیاتی تبدیلی کا سبب بن رہے ہیں۔ تاہم، ڈرافٹ لسٹ میں بنگلہ دیشی یا روہنگیا کا کوئی خاص ذکر نہ ہونے سے یہ الزام کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تجزیہ کار شیکھا مکھرجی کا کہنا ہے کہ ممتا عوامی نبض پکڑنے میں ماہر ہیں، اور ایس آئی آر کو مرکزی حکومت کے’’سیاسی ہتھیار‘‘ کے طور پر پیش کر کے بی جے پی کو دفاعی پوزیشن میں لا رہی ہیں۔
ظاہر ہے،اس تنازع کے اثرات انتخابات پر گہرے ہوں گے۔ ممتا کی پارٹی، ٹی ایم سی، اپنی اس لڑائی کو مرکزی مداخلت کے خلاف جنگ بتا رہی ہے۔سپریم کورٹ میں اس معاملے کی اگلی سماعت 9 فروری کوہونے والی ہے۔ممتا بنرجی اُس دن کے لئے بھی تیار ہیں۔ حالانکہ ریاست میں ایس آئی آر کا عمل ابھی بدستور جاری ہے۔ اگر ایس آئی آر سے ووٹر لسٹ درست ہو جاتی ہے تو بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔حالانکہ برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس ٹکراؤ سے عوام میں جو پیغام جا رہا ہے، وہ جمہوری نظام والے ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن جیسا آئینی ادارے کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ویسے یہ طے ہے کہ انتخابات میں کامیابی صد فیصد عوامی تاثر پر منحصر ہوگی۔اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ ممتا بنرجی کی جدوجہد ان کے کام آتی ہے یا عوام اسے ’’محض سیاسی شو‘‘ قرار دے کر ان کے ساتھ’’ کھیلا‘‘ کر دیتے ہیں۔

