چھٹے ہما لیہ ہند بحرِ ہند ممالک گروپ بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار افتتاح

تاثیر 6 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

“وسودھیو کٹمبکم ہی عالمی امن اور بقائے باہمی کا واحد پائیدار راستہ ہے” — ڈاکٹر اندریش کمار

نئی دہلی، 6 فروری:جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے کنونشن سینٹر میں آج چھٹے ہمالیہہند بحرِ ہند ممالک گروپ (Himalayan–Hind Oceanic Nations Group – HHRS) بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار اور پروقار افتتاح عمل میں آیا۔ یہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ (HHRS) اور راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ (RSJM) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔اس کانفرنس کا انعقاد سینٹر آف رشین اسٹڈیز (CRS)، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز (SLL&CS)، انٹر ہال ایڈمنسٹریشن (IHA)، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی؛ نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کانفلکٹ ریزولوشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ اور سینٹر فار ہمالین اسٹڈیز، دہلی یونیورسٹی کے تعاون سے کیا گیا ہے۔کانفرنس کا مرکزی موضوع ہے:“ہند بحرِ ہند خطے میں بھارت کی جغرافیائی، سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت”افتتاحی اجلاس کا آغاز روایتی چراغ روشن کرنے اور سرسوتی وندنا سے ہوا۔ اس کے بعد مہمانانِ خصوصی کو روایتی دوپٹہ (پٹکا) اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر ڈاکٹر اندریش کمار تھے، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قومی عاملہ کے رکن اور راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے چیف سرپرست ہیں۔ اس موقع پر معروف میڈیا ماہر پروفیسر ڈاکٹر کے۔ جی۔ سریش (ڈائریکٹر، انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر) بطور خصوصی مہمان موجود رہے۔اس پروگرام میں پروفیسر مظہر آصف (وائس چانسلر، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی (رجسٹرار، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر منورادھا چودھری، ڈاکٹر رتیش کمار رائے، پروفیسر گرمیت سنگھ (سابق وائس چانسلر، پونڈیچیری یونیورسٹی)، مسٹر جسبیر سنگھ، مسٹر گولوک بہاری رائے، مسٹر وکرم آدتیہ سنگھ، لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) اروِندر سنگھ لمبا، میجر جنرل (ڈاکٹر) سوریش بھٹاچاریہ، پروفیسر ابوذر خیری، پروفیسر راجیو نین، پروفیسر اسلم خان، پروفیسر وی۔ این۔ پانڈے، پروفیسر نوید جمال، راجیش مہاجن، پونیت نندا، مندیب کمار اگروال، چھتر سنگھ، ڈاکٹر انشل گرگ، ڈاکٹر پوجا، ماینک شیکھر سمیت ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے متعدد ممتاز دانشور، دفاعی ماہرین، محققین اور معزز شخصیات شریک ہوئیں۔اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی روح “وشو

بندھوتو” اور “وسودھیو کٹمبکم” کے اصول پر قائم ہے، جس میں پوری انسانیت کو ایک خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ باہمی احترام، ہمدردی اور تعاون کے جذبے کو اپنا لے تو تصادم اور تشدد خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ بھائی اور بہن کے درمیان احترام اور خیر خواہی کا رشتہ ہی عالمی امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے مکالمہ، توازن اور تعاون کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ عالمی تناؤ کے ماحول میں بھی بھارت امن، استحکام اور مساوات پر مبنی ایک متبادل عالمی نظریہ پیش کر رہا ہے۔ پائیدار عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب قومیں مقابلہ آرائی کے بجائے بقائے باہمی اور باہمی احترام کی پالیسی اپنائیں۔ڈاکٹر اندریش کمار نے اس بات پر زور دیا کہ آج کا وقت خود احتسابی کا ہے کہ آیا ہم اپنی اصل ثقافتی اور تہذیبی شعور تک دوبارہ پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر وقار اور شناخت صرف فوجی یا معاشی طاقت سے نہیں بلکہ اقدار، اخلاقیات اور ثقافتی خود اعتمادی سے بنتی ہے۔ دوسروں کی اندھی تقلید ہمیں ہماری اصل شناخت سے محروم کر دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ، روایات اور فکری ورثے کو خود سمجھیں اور اسی بنیاد پر مستقبل کی سمت طے کریں۔ آنے والی نسلوں کو متوازن، مستند اور اصل تاریخ فراہم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ترقی کو تباہ کن نہیں بلکہ انسان دوست بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔خصوصی مہمان پروفیسر ڈاکٹر کے۔ جی۔ سریش نے ہند بحرِ ہند خطے کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ تقریباً 68 ملین مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور عالمی سمندری تجارت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کی تقریباً 80 فیصد سمندری تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم دور میں بھارت کی بحری تجارت مشرقی افریقہ، عرب دنیا اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی، جس نے ثقافتی رابطوں اور تہذیبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ آزادی کے بعد بھارت نے اپنی بحری طاقت اور علاقائی توازن کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔پروفیسر منورادھا چودھری نے کہا کہ بھارت کا نقطۂ نظر ہمیشہ شمولیتی اور انسانی اقدار پر مبنی رہا ہے۔ بھارتی تاجر اور ملاح صرف تجارت نہیں کرتے تھے بلکہ زبان، ثقافت، یوگا، فلسفہ اور اخلاقی اقدار بھی ساتھ لے کر جاتے تھے۔ ہند بحرِ ہند خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور فکری سطح پر نہایت گہرے رہے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کی اصل طاقت اس کی مکالمے اور ابلاغ کی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ بھارتی ثقافت نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی ہے۔ بھارت کا روحانی تصور تقسیم نہیں بلکہ وحدت اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ آج کے عالمی تناظر میں ثقافتی سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی پائیدار امن کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے بتایا کہ HHRS کا تصور 2019 میں گہرے مطالعے اور مشاورت کے بعد سامنے آیا، جس کا مقصد ہمالیہ سے ہند بحرِ ہند تک تاریخی اور ثقافتی روابط کو ازسرنو زندہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ HHRS سے وابستہ 54 ممالک کی تاریخ اور ثقافت میں کئی مشترکہ پہلو پائے جاتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) اروِندر سنگھ لمبا نے کہا کہ ہند بحرِ ہند محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک مرکزیت کی علامت ہے۔ بھارت کی جغرافیائی حیثیت اسے اس خطے میں سفارتی اور دفاعی برتری فراہم کرتی ہے۔

آنے والے وقت میں بحری سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے لحاظ سے اس خطے کی اہمیت مزید بڑھنے والی ہے، جس کے لیے مربوط سلامتی نظام اور کثیر ملکی تعاون ناگزیر ہے۔مسٹر جسبیر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی ثقافت، فلسفہ اور روحانی شعور میں مضمر ہے۔ بھارت نے کبھی توسیع پسندانہ پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ ہمیشہ تہذیبی مکالمے اور انسانی اقدار کو ترجیح دی ہے۔ بھارت کو محض ایک قومی ریاست نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، جس نے صدیوں سے دنیا کو توازن، بقائے باہمی اور اخلاقی قیادت کا راستہ دکھایا ہے۔اس موقع پر گولوک بہاری رائے، وکرم آدتیہ سنگھ، ڈاکٹر رتیش کمار رائے، سدھانشو تریویدی، ڈاکٹر یوگیش کمار رائے سمیت دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس کے تعلیمی اجلاسوں میں “بھارت اور ہند بحرِ ہند خطے کے درمیان تاریخی و ثقافتی روابط” کے موضوع پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت میجر جنرل انوج ماتھر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر بینش مریم نے انجام دیے۔ کیپٹن گرپریت سنگھ، پروفیسر جی۔ کپورام، ڈاکٹر کماری مانسی، ڈاکٹر راج ورما اور پروفیسر جویب بی۔ سانتریتا نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔دوسرے تعلیمی اجلاس میں “ہند بحرِ ہند خطے میں مشترکہ اور جامع سلامتی کے چیلنجز” کے موضوع پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ڈاکٹر) اروِندر سنگھ لمبا نے کی۔ کموڈور آر۔ شیشادری واسن، ڈاکٹر امیت سنگھ، ڈاکٹر ارشاد احمد، ڈاکٹر راج کمار کوٹھاری اور ڈاکٹر پنسارا امرا سنگھے نے بحری سلامتی، توانائی کے راستوں کے تحفظ، دہشت گردی، علاقائی تعاون اور انڈو پیسفک منظرنامے سے متعلق عصری مسائل پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کے اختتام پر ثقافتی شام اور ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں بھارت اور ہند بحرِ ہند خطے کی شاندار ثقافتی وراثت کو پیش کیا گیا۔ یہ کانفرنس بین الاقوامی ہم آہنگی، ثقافتی مکالمے اور علمی اشتراک کی ایک مضبوط علامت بن کر ابھری۔