تاثیر 8 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے حوالے سے عائد 25 فیصد پینالٹی ہٹانے اور بھارتی برآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کا اعلان ایک بڑی سفارتی جیت ہے۔ یہ فیصلہ 7 فروری کو وائٹ ہاؤس سے جاری کیا گیاہے۔بظاہر اسے بھارت کی کامیاب کوششوںکے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تاہم، اس کے پیچھے بھارت کی خودمختارانہ پالیسی، توانائی کی ضروریات اور اقتصادی مفادات کی حفاظت کا ایک متوازن حکمت عملی نظر آتی ہے۔ یہ محض ایک تجارتی رعایت نہیں، بلکہ بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی حیثیت کی عکاسی ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب بھارت اور امریکہ کے درمیان پچھلے دنوں ایک عبوری تجارتی معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے امریکہ سے آنے والے صنعتی سامان اور بعض زرعی مصنوعات پر درآمداتی ڈیوٹی کم کی ہے یا ختم کر دی ہے۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے بھارتی ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، پلاسٹک، نامیاتی کیمیکلز، گھریلو سجاوٹ کی دستکاری اور بعض مشینری پر ٹیرف کم کر دیا ہے۔ظاہر ہےاس قدم سےبھارت کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا، جو پہلے ہی عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اسے ایک متوازن سودا قرار دیا ہے، جہاں بھارت نے اپنے حساس شعبوں کو محفوظ رکھا ہے۔ مثال کے طور پر، زرعی اور ڈیری سیکٹر میں کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔اس سے بھارتی کسانوں اور مویشی پر وروں کے مفادات کی حفاظت ہوگی۔
روس سے تیل کی خریداری کا معاملہ اس معاہدے کا ایک اہم پہلو ہے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور اسی بنیاد پر پینالٹی ہٹائی گئی ہے۔ تاہم، بھارت کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ توانائی کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بھارت کی توانائی کی ضروریات کو بازار کی صورتحال اور عالمی محرکات کے مطابق متنوع بنایا جائے گا۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ 2023 میں بھارت نے اپنے کل تیل کی 39 فیصد روسی ذرائع سے حاصل کیا تھا، جو 2025 میں 20 سے 35 فیصد تک کم ہوا ہے۔ دسمبر 2025 میں روسی تیل کی درآمد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جو بھارت کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔یہ حقیقت ہے کہ روس نے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ اقوام متحدہ میں ویٹو کا استعمال ہو یا دفاعی شعبے میں ایس-400 جیسے نظام کی فراہمی۔ بھارت اس دوستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔
اِدھرامریکہ سے تیل کی خریداری روسی تیل کا متبادل بننے کی بجائے ایک اضافی ذریعہ ہو سکتی ہے۔ امریکی کچا تیل کی نوعیت بھارتی ریفائنریوں کے لئے کم موزوں ہے، جبکہ شپنگ کے اخراجات بھی زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس، بھارت اگلے پانچ سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر مالیت کی توانائی مصنوعات، ہوائی جہاز، ان کے پرزے، سونے جیسی قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی اور کوکنگ کوئلہ خریدے گا۔ اس معاہدہ سے بھارت کی اقتصادی ترقی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ساتھ ہی گرافکس پروسیسنگ یونٹس اور ڈیٹا سینٹرز جیسی ٹیکنالوجیز کا تبادلہ بھی بڑھے گا۔ اس سے نہ صرف بھارت کی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، بلکہ صارفین کو سستی اور معیاری مصنوعات میسر ہوں گی۔ مثال کے طور پر، کینسر، دل اور اعصابی امراض کی ادویات پر ڈیوٹی ختم ہونے سے صحت کی دیکھ بھال سستی ہوگی۔یہ معاہدہ اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ اگر کوئی فریق اپنے وعدوں میں تبدیلی کرے تو دوسرا بھی جواب دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، رولز آف اوریجن کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صرف بھارتی اور امریکی مصنوعات کو ہی رعایت ملے۔
مجموعی طور پر، یہ فیصلہ بھارت کی سفارتی مہارت کا مظہر ہے۔اس کے ذریعہ نئی دہلی نے اپنے اقتصادی مفادات، توانائی کی سلامتی اور تاریخی اتحادوں کا توازن برقرار رکھا ہے۔ روسی تیل پر پینالٹی ہٹنے سے بھارت کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور عالمی منڈیوں میں اس کی حیثیت مضبوط ہوگی۔ یہ محض ایک رعایت نہیں، بلکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کی پہچان ہے۔اس میں 1.4 ارب شہریوں کی خوشحالی کی ترجیح مضمر ہے۔ اس معاہدے سے بھارت کی خود انحصاری مزید مضبوط ہوگی اور عالمی سطح پریہ ایک متوازن اور معتبر طاقت کے طور پر ابھرے گا۔

