تاثیر 15 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی۔ امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پراِن دنوں بہت طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے، دوسری طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ معاہدہ ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی مکمل ڈیل نہیں ہو ئی ہے، صرف ایک فریم ورک کا اعلان ہوا ہے۔ اس لئے جلد بازی میں فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ مگر جو کچھ سامنے آیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ فائدہ زیادہ اور نقصان کم ہوگا۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں کسانوں کی فکر کی۔ راہل گاندھی نے پانچ اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی جینیٹک مکئی اورسویا کو ڈیوٹی فری درآمد کرنے سے ہمارے کسانوں کی کمائی ختم ہو سکتی ہے۔جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سے سیب، بادام اور اخروٹ کے کسانوں کو زبردست نقصان ہوگا۔ظاہر ہے، ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کا کسان پہلے ہی مہنگائی، بارش اور مارکیٹ کی بے ترتیبی سے پریشان ہے۔ اگر سستا امریکی مال آ گیا تو مقامی پیداوار کی قیمت گر جائے گی۔ یہ بات درست ہے۔مگر دوسری طرف دیکھیں تو حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت نے یہ ڈیل بغیر سوچے سمجھے نہیں کی ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے مذاکرات چل رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف لگا رکھا تھا۔ اس سے ہماری برآمدات پر بھاری بوجھ پڑ رہا تھا۔ اب یہ ٹیرف ختم ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارتی کمپنیاں، چھوٹے کاروبار اور ہاتھ کی صنعت امریکہ میں اپنا مال بغیر رکاوٹ کے بیچ سکیں گی۔ یہ صرف بڑی کمپنیوں کا فائدہ نہیں، لاکھوں چھوٹے کسانوں اور مزدوروں کی روزی روٹی کا سوال ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ڈی ڈی جی (جینیٹک طور پر تبدیل شدہ) مال کے بارے میں سخت قواعد ہیں۔ بھارت نے کبھی بھی بغیر ٹیسٹنگ کے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ہے۔ سویا اور مکئی کے لئے بھی معیار طے ہیں۔ اگر امریکی مال آئے گا تو اسے بھارتی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ اس سے مقابلہ بڑھے گا اور ہمارے کسان بھی اپنی پیداوار بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ جیسے آج کل دودھ، انڈے اور پھلوں میں ہو رہا ہے۔ مقابلہ اچھا ہے، مگر اس کے ساتھ حکومت کو کسانوں کی حفاظت بھی کرنی ہوگی۔ ایم ایس پی، سبسڈی اور خریداری کی ضمانت جاری رکھنی ہوگی۔ویسے جموں و کشمیر کے بارے میں عمر عبداللہ کی فکر بھی جائز ہے۔ وہاں کے باغات مشہور ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ اگر ہمارا مال بہتر ہو، پیکیجنگ اچھی ہو اور مارکیٹنگ ہو تو کوئی امریکی مال ہمیں نہیں ہرا سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، کولڈ سٹوریج اور برآمداتی سہولیات فراہم کرے۔اس سے کسانوں کواپنی پیداوار کو بڑی اورنئی منڈی ملے گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈیل صرف تجارت کی نہیں، بھارت اور امریکہ کے اسٹریٹجک رشتے کی بھی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ سیکورٹی، خارجہ پالیسی اور معاشی معاملات میں قریب آئے گا۔ کچھ لوگ اسے امریکہ کے سامنے جھکنا کہہ رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت ہمیشہ اپنا راستہ خود چنتا آیا ہے۔ روس سے تیل خریدنا کم ہوا ہے، مگر بالکل بند نہیں ہوا۔ ہم نے اپنی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، بلکہ دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔
اِدھرحکومت ہند نے واضح کیا ہے کہ ہم 500 ارب ڈالر کا سامان امریکہ سے خریدیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری صنعتوں کو سستا مال ملے گا، جو ہماری برآمدات کو مزید بڑھائے گا۔ آٹو پارٹس، فارما، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں لاکھوں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ نوجوانوں کے لئے یہ اچھی خبر ہے۔البتہ کچھ سوالات اب بھی کھڑے ہیں۔ کیا یہ ڈیل کسانوں کی قیمت پر ہو رہی ہے؟ کیا اس سے مستقبل میں دالیں، چاول اور دیگر فصلوں پر بھی دباؤ بڑھے گا؟ کیا غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے کسانوں کی حفاظت نہیں کر سکیں گے؟ ان سوالات کا جواب حکومت کو کھل کر دینا چاہیے۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو، کسانوں کے نمائندوں سے بات ہو، اور تمام پہلوؤں پر غور و خوض کیا جائے۔
یہ بات واضح ہے کہ بھارت جیسا بڑا ملک نہ تو امریکہ کے سامنے جھک سکتا ہے اور نہ ہی بند دروازوں کی پالیسی اپنا سکتا ہے۔ ہمیں کھلے دل سے تجارت کرنی ہے، مگر اپنے کسانوں اور چھوٹے کاروباریوں کو بچاتے ہوئے۔ موجودہ فریم ورک اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ اگر حکومت محتاط رہی، کسانوں کی فکر کو سنجیدگی سے لیا اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے تو یہ ڈیل بھارت کے لئے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔بہر حال، ابھی تو صرف آغاز ہے۔ اصل امتحان تو تب ہوگا جب تفصیلی معاہدہ سامنے آئے گا۔ تب تک مثبت انداز میں بحث جاری رہنی چاہئے، اور اس فکر کے ساتھ جاری رہنی چاہئے کہ بھارت کی ترقی سب سے اہم ہے۔

