تاثیر 17 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
غالب نے اپنی شاعری میں روایتی نظریہ کو قبول کرنے کی بجائے سوالات قائم کیے: پروفیسر آفتاب اشرف
شعبہ اردو متھلا یونیورسٹی و پربھات داس فاونڈیشن کے اشتراک سے یک روزہ قومی سمینار کا انعقاد
دربھنگہ (پریس ریلیز) شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ و ڈاکٹر پربھات داس فاونڈیشن دربھنگہ کے باہمی اشتراک سے شعبہ اردو کے سمینار ہال میں یک روزہ قومی سمینار بعنوان ” عصر حاضر میں کلام غالب کی معنویت” کا انعقاد نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ہوا۔ پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ماہر تعلیم پروفیسر مشتاق احمد (پرنسپل سی ایم کالج و سابق رجسٹرار ایل این ایم یو) نے شرکت کی جبکہ سمینار کی صدارت پروفیسر افتخار احمد ( صدر شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی) و پروفیسر محمد آفتاب اشرف (سابق صدر شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی) نے مشترکہ طور پر کی ۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر مطیع الرحمن (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو متھلا یونیورسٹی) و تعارفی کلمات ڈاکٹر ناصرین ثریا ( اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو متھلا یونیورسٹی) نے پیش کی۔ پروگرام کا باضابطہ آغاز مہمانان کرام کے ہاتھوں شمع افروزی اور گلپوشی کے ذریعہ ہوا ۔ اس کے بعد ایم اے سال اول فرسٹ سمیسٹر کی طالبہ سیدہ آسیہ نے اقبال کی مشہور نظم ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” اور سال چہارم کی طالبہ سدرہ جبیں نے اپنی مسحور کن آواز میں نظم ” موسم بہار” پیش کر سامعین سے دادوتحسین حاصل کی۔ پروگرام میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر مشتاق احمد نے کلام غالب کی معنویت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ غالب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی روح ہے۔ غالب کی ذہنی زندگی اور حقیقی زندگی میں ایسی کشمکش تھی جو آخر عمر تک باقی رہی۔ ان کے کلام میں نالہ و فریاد کا ایک بڑا سرچشمہ تھا۔ کلام غالب کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا ان کی شاعری عہد حاضر سے بڑھ کر مستقبل کی شاعری لگتی ہے۔ شاعری میں انہوں نے جو روایت قائم کی تھی وہ اہل علم کے لیے ایک نئی راہ ہے۔ پروفیسر مشتاق احمد نے مزید کہا کہ غالب ایک عظیم فنکار ہے جس کی قدر و قیمت وقت کے ساتھ اور بھی مستحکم ہوتی جائے گی۔ آج صارفیت کے دور میں غالب کے شعر کی اہمیت و معنویت اس وجہ سے بھی ہے کہ جو مسائل ان کے دور میں موجود تھے وہی کم و بیش آج کے دور میں بھی شکل بدل کر موجود ہیں اسی وجہ سے انہیں اردو دنیا کا مشرقی آفتاب کہا جاتا ہے۔ پروفیسر محمد شاہد حسن ( صدر شعبہ سوشیالوجی و ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس متھلا یونیورسٹی) نے کہا کہ غالب انسان کی تمناو ں کا ،خوابوں کا اور اُس کے عزم کا جس قدر خوبصورت اور پراعتماد بیان کے اشعار میں ملتا ہے وہ اور کسی شعرا کے یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ صدارتی گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر افتخار احمد ( صدر شعبہ اردو) نے کہا کہ کلام غالب کے مطالعہ کا مطلب ہی غالب کو نئے زاویے سے دیکھنا ہے۔ غالب خود ساری زندگی فرسودگی سے دامن کش رہے۔ غالب کو یاد کرنا ایک اعتبار سے تازہ دم رہنےکے ہم معنی ہے۔ پروفیسر محمد آفتاب اشرف ( کنوینر پروگرام و سابق صدر شعبہ) نے کہا کہ درد و الم سے دوچار ہونے کے بجائے غالب نے اسے راحت کا ذریعہ بنا لیا چنانچہ لذت درد، شکست آرزو، غم ہستی وغیرہ اسی لذت اندوزی کا شاخسانہ ہیں۔ پروفیسر آفتاب اشرف نے آگے کہا کہ غالب تقریبات کے تحت ہونے والی سرگرمیاں ہماری علمی اور ثقافتی وابستگی کو واضح کرتی ہیں۔ طلبا و ریسرچ اسکالروں کے لیے اس طرح کا سمینار ان کی علم میں اضافے کا سبب ہے۔ پربھات داس فاونڈیشن کے سکریٹری ڈاکٹر مکیش کمار جھا نے کہا کہ غالب صرف اردو فارسی کے بڑے شاعر نہیں ان کا کلام ہندی ادب میں بھی معنویت کے اعتبار سے اہم ہے۔ فاونڈیشن کی یہ کوشش ہے بلاتفریق ایسے ادبا و شعرا پر بڑے پیمانے پر سمینار و سمپوزیم کا انعقاد ہو جن کی افکار و خیالات سے واقف ہونا آج کی نسل کے لیے ضروری ہے۔

یک روزہ سمینار میں ڈاکٹر خالد انجم عثمانی( صدر شعبہ سی ایم کالج دربھنگہ) ڈاکٹر محمد جسیم الدین ( مترجم ضلع اردو زبان سیل دربھنگہ کلکٹریٹ)، ڈاکٹر شاہنواز( شعبہ اردو ملت کالج) ڈاکٹر ضیاء الحق( آر این آر اے کالج سمستی پور) ڈاکٹر عبد الغنی( جے این کالج مدہوبنی)ڈاکٹر مسرورالہدی سرمدی(سی ایم کالج دربھنگہ) ڈاکٹر فیضان حیدر(سی ایم کالج دربھنگہ) ڈاکٹر زیبا پروین(سی ایم کالج دربھنگہ) ڈاکٹر شنکر کمار(سی ایم جے کالج کھٹونہ مدہوبنی) ڈاکٹر قرة العین(ایم ایل ایس ایم کالج دربھنگہ) فرحت جبیں( ویمنس کالج دربھنگہ)ڈاکٹر محمد احسان الحق ( خطیب و امام دربھنگہ)وغیرہ نے اپنے گراں قدر مقالات پیش کیے۔ اظہار تشکر خورشید انصاری (ریسرچ فیلو شعبہ اردو) نے ادا کی۔ سمینار میں قرب و جوار سے بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر ، زبان و ادب کے شائقین، طلبا و طالبات شریک ہوئیں۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں سینئر ریسرچ اسکالر ریاض الدین، اسکالر محمد عارف اقبال، آفرین انجم،مقدر انصاری، عائشہ صدیقہ، راحت پروین، مولانا عمر فارق قاسمی، عائشہ طلعت، ، انیس الرحمن، محمد سہیل، راہل راج، بھاردواج منڈل پیش پیش رہے۔

