تاثیر 19 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ملک بھر میں راجیہ سبھا کی 37 سیٹوں پر انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان سیٹوں کے لیے تفصیلی شیڈول جاری کر دیا ہے۔یہ سبھی سیٹیں اپریل، 2026 میں خالی ہونے والی ہیں۔ان میں بہار کی پانچ سیٹیں بھی شامل ہیں۔ یہ انتخابات نہ صرف پارلیمنٹ کے ایوان بالا کو مکمل کرنے کے لئے اہم ہیں بلکہ ان سے مختلف ریاستوں کے سیاسی منظر نامے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی فہرست تیار کرنے اور اتحادیوں کے ساتھ جوڑ توڑ میں مصروف ہوگئی ہیں۔
انتخابی شیڈول کے مطابق 26 فروری کو نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔ 5 مارچ تک نامزدگی کے پرچے داخل کئے جا سکیں گے۔ 6 مارچ کو اسکروٹنی ہوگی اور 9 مارچ تک امیدوار نام واپس لے سکتے ہیں۔ ووٹنگ 16 مارچ کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی، جبکہ اسی دن شام 5 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔ 20 مارچ تک پورا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ کمیشن نے، شفافیت کے مد نظر، ووٹنگ کے لئے مخصوص وائلیٹ رنگ کاا سکیچ پین استعمال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ، انتخابی عمل کی نگرانی کے لئے آبزرورز تعینات کیے جائیں گے تاکہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔
واضح ہو کہ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 7 سیٹیں ہیں، تمل ناڈو میں 6، بنگال اور بہار میں 5-5، اوڈیشہ اور آسام میں 3-3، چھتیس گڑھ اور ہریانہ میں 2-2، ہماچل پردیش میں 1 اور تلنگانہ میں 2 سیٹیں خالی ہو رہی ہیں۔ یہ سیٹیں اپریل 2026 میں ریٹائر ہونے والے اراکین کی ہیں، جن میں کئی اہم نام شامل ہیں۔ مہاراشٹر سے شرد پوار اور رام داس اٹھاولے، تمل ناڈو سے کانی موزھی اور ترچی شیوا، بہار سے ہری ونش نرائن سنگھ، اپندر کشواہا، رام ناتھ ٹھاکر، پریم چند گپتا اور امرندر دھاری سنگھ جیسے رہنما شامل ہیں۔ بنگال سے ساکت گوکھلے اور سبرتا بخشی، آسام سے رامیشور تیلی اور بھوبنیشور کلیتا بھی ریٹائر ہو رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد نئی قیادت کو موقع مل سکتا ہے، مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سے رہنما دوبارہ منتخب ہوتے ہیں یا پھر کون سے نئے چہرے سامنے آتے ہیں۔
ظاہر ہے انتخابات کے نتائج ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ طاقت پر منحصر ہوںگے۔ یہ انتخابات مرکز میں اپوزیشن کی آواز کو مضبوط یا کمزور کرنے کا بھی ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر اپوزیشن اتحاد مضبوط رہا تو یہ پارلیمنٹ میں توازن قائم رکھنے میں مدد دے گا، ورنہ حکمراں اتحاد کی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔ بہار پر نظر ڈالیں تو یہاں کی اسمبلی میں این ڈی اے کی برتری ہے۔ بی جے پی کے 89، جے ڈی یو کے 85، ایل جے پی آر کے 19،ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) کے 5 اور آر ایل ایم کے 4 ایم ایل اے ہیں۔یعنی ان کی مجموعی تعداد 202 ہے۔ یہ تعداد این ڈی اے کو چار سیٹوں پر آسان کامیابی دلا سکتی ہے۔ مگر پانچویں سیٹ پر مقابلہ دلچسپ ہے۔اس کو حاصل کرنا عظیم اتحاد کے لئے آسان نہیں ہونے والا ہے۔عظیم اتحاد میں آر جے ڈی کے 25، کانگریس کے 6، سی پی آئی ایم ایل کے 2، سی پی آئی ایم کے 1 اور آئی آئی پی کے 1 ایم ایل اے ہیں، جو کل 35 بنتے ہیں۔ پانچویں سیٹ کے لئے انہیں مزید حمایت کی ضرورت ہے، اور اس میں اے آئی ایم آئی ایم کے 5 اور بی ایس پی کے 1 ایم ایل اے اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔مگر اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان کا صاف کہنا ہے کہ ہماری پارٹی صرف دوسروں کو سپورٹ کرنے کے لئے نہیں بنی ہے۔ وہ خود بھی امیدوار کھڑا کر سکتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر اپوزیشن بی جے پی کو روکنا چاہتی ہے تو اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار کو سپورٹ کرے۔ظاہر ہے، اے آئی ایم آئی ایم اپنا الگ امیدوار اتارتی ہے تو ووٹوں کا بکھراؤ طے ہے، اور یہ بھی طے ہے کہ اس کا فائدہ این ڈی اے کوہوگا۔
یہ صورتحال بہار کی سیاست میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ایک طرف تیجسوی یادو کی قیادت عظیم اتحاد کو اپنی طاقت بڑھانے کی فکر ہے تو دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم راجیہ سبھا میں اپنی نمائندگی چاہتی ہے۔اس رسہ کشی میں اگر اپوزیشن اتحاد ممکن نہیں ہوا تو پانچویں سیٹ بھی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔بہر حال حالات خواہ جو بھی ہوں، سیاسی جماعتوں کو شفافیت اور جمہوری اصولوں پر قائم رہنا چاہئے تاکہ ہمہ جہت ترقی اور ہم آہنگی کی راہ مزید ہموار ہو سکے۔اب سب کی نظریں 16 مارچ پر ٹکی ہوئی ہیں،ووٹنگ کے بعد جو تصویر ابھر کر سامنے آئے گی، وہ تقریباََ پورے ملک کی سیاسی تقدیر کا ائینہ ہو گی۔
********

