تاثیر 20 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
دہلی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کل 20 فروری 2026 کو اپنا ایک سال مکمل کر لیا۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے اس موقع پر ایک جامع رپورٹ کارڈ پیش کیا اور گزشتہ 12 مہینوں کی حصولیابیوں، جاری منصوبوں اور مستقبل کے عزائم پر روشنی ڈالی۔ریکھا گپتا حکومت کا یہ پہلا سال اس لئے بھی اہم ہے کہ 2025 کے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے تقریباً تین دہائیوں بعد بی جے پی نے مکمل طور پر اقتدار سنبھالا ہے۔ واضح ہو کہ 2025 میں دہلی کے ووٹرز نے حکومت کی تبدیلی کی خواہش کا کھل کر اظہار کیا تھا۔
اپنی حکومت کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر کل وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ حکومت ’’وعدوں کی نہیں، کام کی ‘‘ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سال کا بنیادی فوکس جمود کو توڑنے، بنیادی مسائل حل کرنے اور دہلی کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جانے پر رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں سب سے نمایاں اور فوری پیش رفت آیوشمان بھارت اسکیم کا نفاذ ہے۔ پہلی کابینہ میٹنگ میں ہی اسے نافذ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہوئے اور 30 ہزار سے زیادہ لوگوں نے براہ راست علاج اور مالی امداد حاصل کی۔اس ایک سال میں 370 آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے گئےہیں۔ ان کی تعداد کو بڑھاکر 1100 تک پہنچانا ہے۔ان کے ذریعہ نہ صرف بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم ہو رہا ہے بلکہ صحت کی سہولیات کو محلہ سطح تک لے جا کر غریب اور متوسط طبقے کے لئے قابل رسائی بنا نے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ہمس سسٹم کے ذریعے صحت کے شعبے میں بدعنوانی پر قابو پایا جا رہا ہے اور ایک لاکھ سے زائد آدھار کارڈز کو اس سے مربوط کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھرتی کا عمل تیز رفتار سے جاری ہے۔ 1300 نرسوںکی تقرری کی جا چکی ہے۔
ریکھا گپتا حکومت کے رپورٹ کارڈ کے مطابق غریب اور مزدور طبقے کے لئے 70 اٹل کینٹین شروع کی گئیں ہیں۔وہاں 5 روپے میں معیاری، گرم اور غذائیت سے بھرپور کھانا دستیاب ہے۔ یہ منصوبہ ’’کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ کے وژن کے تحت شروع کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ شہر کے لاکھوں یومیہ مزدوروں، رکشہ چلانے والوں اور دیگر محنت کشوں کے لئے ایک بڑی راحت کا باعث ہے۔ بیتے سال جھگی بستیوں کے لئے 700 کروڑ روپے کا خصوصی بجٹ مختص کیا گیا تاکہ وہاں نالیاں، پکی سڑکیں، پارک، لائٹس اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ 3 لاکھ پانی کے بل معاف کرنے سے لاکھوں گھرانوں کو براہ راست مالی ریلیف ملا ہے۔
رپورٹ کارڈ میں مسقبل کے عزائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تعلیم کے میدان میں انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ 31 مارچ تک 7 ہزارسرکاری کلاس رومز کو اے آئی انیبلڈ’’ اسمارٹ کلاس رومز‘‘ میں تبدیل کرنے کی تیاری ہے۔ سروجنی نگر میں ’’سی ایم شری اسکول‘‘ کا افتتاح گویا ایک سنگ میل ہے، جہاں انٹرایکٹو پینلز، پرسنلائزڈ لرننگ، اسکل لیبز، روبوٹکس، کوڈنگ اور ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے بچوں کو عالمی معیار کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ نریلا میں’’ایجوکیشن سٹی‘‘ کے لیے 1360 کروڑ روپے کی زمین حاصل کی جا چکی ہے۔ ظاہر ہےیہ اقدامات دہلی کے بچوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی، مقابلاتی امتحانات اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے لئے تیار کرنے کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔
مبصرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ ریکھا گپتا حکومت کے پہلے ایک سال میں،انفراسٹرکچر اور ماحولیات میں بھی قابل تعریف پیش رفت ہوئی ہے۔4 ہزار الیکٹرک بسیں متعارف کرائی گئیں، نئی ای وی پالیسی نافذ ہو رہی ہے اور 35 لاکھ درخت لگانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سڑکوں کی مرمت کے لئے 400 کلومیٹر کا کام مکمل کرنے اور 600 کلومیٹر کے نئے ٹینڈر جاری کرنے کا اعلان ہوا ہے ۔ نندن گری فلائی اوور اور دیگر پروجیکٹس جلد مکمل ہوں گے۔ ڈرینج ماسٹر پلان کے لئے 56 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ تیار ہے۔ لاڈلی اسکیم کے تحت 40 ہزار بیٹیوں کو مالی امداد دی جا رہی ہے۔
اِدھر اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی نےدہلی میں بی جے پی حکومت کے پہلے سال کی کار کردگی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سابق وزیر منیش سسودیا نے کئی انتخابی وعدوں جیسے خواتین کو ماہانہ 2500 روپے، جھگیوں میں رہائش اور آلودگی کنٹرول کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ اس ایک سال میں دہلی ’’بے حال ‘‘ رہی ہے۔ تاہم، اس پہلے سال میں صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور غریبوں کی فلاح کے شعبوں میں جو ٹھوس اور قابلِ مشاہدہ پیش رفت ہوئی ہے ، اس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔حالانکہ اس پہلے سال میں جہاں کچھ شعبوں میں قابلِ تعریف کام ہوا ہے، وہیں کچھ مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔ اگر حکومت اپوزیشن کی تنقید کو مثبت رہنمائی کے طور پر قبول کرے اور اپنی ترقیاتی رفتار برقرار رکھے تو دہلی واقعی ایک عالمی سطح کے شہر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ایسے میں عوام کو چاہئے کہ مثبت تبدیلیوں کی قدر کریں اور حکومت کو جوابدہ بھی بنائے رکھیں۔اور یہ مان کر چلیں کہ یہ ایک سال محض شروعات ہے۔مستقبل میں بہتری کی ابھی بہت گنجائش باقی ہے۔

