ہندوستان-امریکہ ٹریڈ ڈیل کے خلاف کانگریس کا ملک گیر کسان سمیلن، 24 فروری سے، بھوپال سے شروعات ہوگی

تاثیر 21 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھوپال، 21 فروری: مجوزہ ہندوستان-امریکہ ٹریڈ ڈیل کی مخالفت میں کانگریس نے ملک گیر کسان تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اس کی شروعات 24 فروری سے بھوپال میں کسان مہاپنچایت کے ساتھ ہوگی۔ یہ معلومات مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع ریاستی کانگریس دفتر میں ہفتہ کو منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ریاستی انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری اور اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے دی۔ انہوں نے اس دوران مرکزی حکومت پر تیکھا حملہ بولا۔ اس دوران سابق وزیر سجن سنگھ ورما، میڈیا محکمہ کے صدر مکیش نایک اور تنظیم کے نائب صدر سکھدیو پانسے بھی موجود تھے۔

ریاستی انچارج ہریش چودھری نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1965 اور 1971 کی دہائی میں امریکہ کے ذریعے اناج کی فراہمی روکے جانے سے ملک کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سبز انقلاب کے بعد ہندوستان نے خود کفالت حاصل کی، لیکن اب مجوزہ ٹریڈ ڈیل سے وہی خطرات دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ سے سویا بین اور کپاس کی درآمدات بڑھیں تو ہندوستانی کسانوں اور چھوٹے تاجروں پر سیدھا اثر پڑے گا۔ ’’کپاس میں ہندوستان خود کفیل ہے، پھر بھی درآمد کیا گیا تو کسانوں کی آمدنی پر گہرا وار ہوگا۔‘‘

ریاستی انچارج چودھری نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ معاہدہ ’ایپسٹین فائلز‘ یا ’اڈانی کیس‘ کے دباو میں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے اسے ’’ہندوستان کا امریکہ کے سامنے سرینڈر‘‘ بتاتے ہوئے کہا کہ لاکھوں چھوٹی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 24 فروری سے بھوپال سے عوامی بیداری مہم کی شروعات ہوگی، جو پورے ملک میں چلے گی۔