تاثیر 25 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،25فروری:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں خارجہ پالیسی، معیشت، سرحدی سلامتی اور عالمی تنازعات سے متعلق متعدد اہم دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیرف پالیسی نے نہ صرف کئی تجارتی محاذوں پر امریکہ کو فائدہ پہنچایا بلکہ جنوبی ایشیا میں ممکنہ نیوکلیئر تصادم کو بھی روکنے میں کردار ادا کیا۔اپنے طویل ترین خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران معاشی دباؤ اور سفارتی حکمت عملی نے حالات کو ایٹمی جنگ کی طرف جانے سے روکا اور اس پیش رفت کو خود پاکستانی قیادت نے بھی تسلیم کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران ایسے میزائل پروگرام پر کام کر رہا ہے جو مستقبل قریب میں امریکی سرزمین تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، تاہم ان کی اولین ترجیح مسئلے کا سفارتی حل ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں ہزاروں مظاہرین کو سخت حکومتی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کی انتظامیہ نے انسانی حقوق کے معاملات پر بھی دباؤ ڈالا۔ انہوں نے دہرایا کہ گزشتہ برس ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والی امریکی کارروائی نے مبینہ طور پر اس پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی واضح یقین دہانی تاحال سامنے نہیں آئی۔خطاب میں انہوں نے سرحدی صورتحال کو امریکی تاریخ کا سب سے محفوظ دور قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ مہینوں میں غیر قانونی داخلوں کو مؤثر انداز میں روکا گیا ہے اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری ہے۔ ٹرمپ کے مطابق غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں اور حکومت اس حوالے سے کوئی نرمی برتنے کے حق میں نہیں۔معاشی اشاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دوسرے دور میں افراطِ زر میں واضح کمی آئی ہے اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ٹیکس اصلاحات نے معیشت کو نئی جان دی جبکہ اپوزیشن جماعت نے ان اقدامات کی مخالفت کی۔

