تاثیر 28 فروری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
تہران/تل ابیب/واشنگٹن، 28 فروری : ایران کے دارالحکومت تہران میں ہفتے کی صبح اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملے کے دوران زور دار دھماکے ہوئے۔ تہران کے کئی علاقوں میں گھنا دھواں پھیل گیا۔ ایران کے کئی دوسرے شہروں میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تہران پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر بھی دھماکہ ہوا ہے۔البتہ اس حملے میں وہ محفوظ ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا،ایرانی اخبار شارگ، امریکی نیوز چینل سی این این اور دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کے قریب زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے علاوہ تہران میں واقع صدرمسعود پزشکیان کی رہائش گاہ اور قومی سلامتی کونسل کے دفتر کے قریب دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تہران کے علاوہ ایران کے مزید پانچ شہروں پر حملے ہوئے ہیں۔ ان میں قم، اصفہان، کرمانشاہ اور کرج اور لرستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی نیم فوجی دستے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی(آئی آر جی سی ) کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

