بہار راجیہ سبھا انتخابات: این ڈی اے پانچوں نشستیں جیت پائے گا یا متحدہ اپوزیشن ایک سیٹ بچا لے گی؟

تاثیر 01 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ،یکم مارچ: بہار اسمبلی کی پانچ راجیہ سبھا نشستوں کے لیے 16 مارچ کو ہونے والے انتخابات نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ 243 رکنی اسمبلی میں ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے 41 ترجیحی ووٹ درکار ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق حکمراں اتحاد این ڈی اے کے پاس 202 ارکانِ اسمبلی ہیں، جبکہ اپوزیشن کے پاس مجموعی طور پر 41 ووٹ ہیں، جن میں 35 مہا گٹھ بندھن/انڈیا اتحاد کے اور 6 دیگر جماعتوں کے شامل ہیں۔ اس حساب سے این ڈی اے چار نشستیں بآسانی جیت سکتا ہے، تاہم پانچویں نشست کے لیے اسے کم از کم تین اپوزیشن اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔اپوزیشن اتحاد میں جنتا دل کے 25، کانگریس کے 6، سی پی آئی (ایم ایل) کے 2 جبکہ دیگر بائیں بازو اور علاقائی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ علاوہ ازیں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے 5 اور بی ایس پی کا ایک رکن اسمبلی ہے، حالانکہ یہ مہا گٹھ بندھن کا حصہ نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق راجیہ سبھا انتخابات میں اوپن بیلٹ سسٹم نافذ ہوتا ہے اور جماعتیں اپنے اراکین کو وہپ جاری کر سکتی ہیں۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے والے رکن کو آئین کے دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اتحاد پانچویں نشست پر اپنا امیدوار کھڑا کرے گا۔