تاثیر 02 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
گزشتہ 2 مارچ کی رات کے تقریباََ 12 بجے “اگجا” کی آگ روشن کر دی گئی۔کل 4 مارچ کو رنگوں عبیروں کی ہولی کھیلی جائے گی۔آج چاند گہن کی وجہ سے ہولی کے تہوار کو ایک دن کے لئے مؤخر کردیا گیا ہے۔ہولی بھارت کے اُن تہواروں میں سے ایک ہے، جو موسمِ بہار کی آمد کا پیغام سناکر دلوں کو تازگی عطا کر تے ہیں۔ ہولی کا دن رنگوں کی شوخی نہیں، باہمی اعتماد، بھائی چارہ اور محبت کے اظہار کا دن ہوتا ہے۔ افسوس کہ پچھلے کچھ برسوں سے ملک کی آلودہ سیاست نے اس تہوار کے گرد بھی شکوک و شبہات اور نفرت کے بادل جمع کرنے شروع کر دئے ہیں۔چنانچہ اس عظیم تہوار کی سماجی اہمیت پر چھائےمنافرت کے کیچڑ نے بعض مذہبی طبقات کو فاصلے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالاں کہ تہوار فاصلے مٹانے کے لئے ہوتے ہیں، بڑھانے کے لئے نہیں۔
’’اگجا‘‘ دراصل ہولی سے قبل رات میں جلائی جانے والی مقدس آگ کی مقامی اصطلاح ہے۔اسے برصغیر کے مختلف خطوں میں ’’ہولیکا دَہن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس روایت کی جڑیں قدیم اساطیری قصے سے جڑی ہوئی ہیں، جہاں ظلم و تکبر کی علامت’’ ہولیکا ‘‘کو آگ میں جل جانا پڑا تھا، جبکہ سچائی و ایمان کی علامت’’ پرہلاد‘‘ محفوظ رہے۔ اس طرح ’’اگجا‘‘ محض رسم نہیں بلکہ باطل پر حق کی فتح، تکبر پر صداقت کی کامیابی اور اجتماعی تطہیرِ نفس کا علامتی اعلان ہے۔
ہولی کی روایتیں ہماری مشترکہ تہذیب میں رچی بسی ہیں۔ اس کا تذکرہ بھگوان رام اور کرشن سے منسوب داستانوں میں ملتا ہے، مگر اس کی خوشبو کسی ایک عقیدے تک محدود نہیں ہے۔ اردو اور ہندی ادب نے اس عطر بیزی کو لفظوں میں سمیٹنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔نظیر اکبر آبادی کی ہولی پر نظمیں آج بھی گلی کوچوں کی آواز لگتی ہیں۔ڈاکٹر علامہ اقبالؔ نے رام کو’’امامِ ہند‘‘ کہہ کر اس دھرتی کی عظمت کو سلام کیا ہے، جبکہ مولانا حسرتؔ موہانی کی کرشن سے عقیدت نے یہ پیغام دیا ہےکہ عشق کی راہ میں کسی تفریق کی گنجائش نہیں ہے۔اسی روایت کو اگر ہم مزید پیچھے لے جائیں تو امیر خسروؔ کی صوفیانہ آواز سنائی دیتی ہے، جو بھارتی تہذیب کے رنگوں کو اپنی شاعری میں گھول دیتے ہیں۔عبد الرحیم خان خاناں کے دوہے ہوں یا ان کی کرشن بھگتی، سب میں محبت اور یگانگت کی خوشبو موجود ہے۔ ملک محمد جائسی نے داستان کے پردے میں انسانیت کا درس دیا ہے اور جوشؔ ملیح آبادی کے انقلابی لہجے میں قومی یکجہتی کےجلائے ہوئے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ یہ سب نام اس بات کی شہادت ہیں کہ ہماری ادبی روایت کسی ایک مذہب یا طبقے کی میراث نہیں، بلکہ ہم سب کی ساجھی وراثت ہے۔
ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ تہواروں نے ہمیشہ سماج کو جوڑا ہے۔ گلیوں اور کوچوں میں جب بچے ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں تو وہ مذہب نہیں پوچھتے، صرف ہنسی بانٹتے ہیں۔ بازاروں میں جب رنگوں کی بہار آتی ہے تو وہ کسی شناخت کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہی وہ فضا ہے، جو برسوں سےبھارت کی پہچان رہی ہے اور جسے کمزور کرنے کی ہر کوشش دراصل ہماری اجتماعی روح کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
آج جب سیاست کا شور بڑھا ہوا ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ ہم تہواروں کو سیاسی نعروں سے آزاد رکھیں۔ ہولی کی آگ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نفرت، تعصب اور بدگمانی کو جلایا جائے۔ رنگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تنوع میں ہی ہماری طاقت مضمر ہے۔ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب اسی تنوع سے بنی ہے،جہاں مختلف مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر رہتی ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس ہوش ربا دور میں افواہوں اور اشتعال انگیزی سے بچنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اسے دشمنی میں بدل دینا ہماری کمزوری ہے۔ ہولی ہمیں سکھاتی ہے کہ نظریاتی فرق کے باوجود، مسکراہٹ کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو یہی سبق دیں کہ تہوار محبت بانٹنے کا نام ہے تو آنے والی نسلیں نفرت کے بیج ہر گز قبول نہیں کریں گی۔ہولی کا پیغام اعتدال اور احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر کسی کو رنگ سے تکلیف ہو تو اس کے احساس کا خیال رکھنا بھی اسی تہذیب کا حصہ ہے۔ یہی وہ موقع ہے جب ہم ایک دوسرے کے گھروں تک جائیں، مبارک باد دیں اور یہ باور کرائیں کہ ہمارے رشتے سیاست سے بڑے ہیں۔
کل ’’اگجا‘‘ کی آگ کو روشن کرکے ہم اپنے اندر کے تعصب،کدورت اورمذہبی منافرت جیسی تمامتر آلودیوں کو علامتی طور پر اس میں ڈال کر بھسم کر چکے ہیں۔ در اصل 4 مارچ ا س تصور کو عملی جامہ پہنانے کا دن ہے۔ چنانچہ یہ دھیان رہے، کل صبح جب ہمارے ہاتھوں سے عقیدت و محبت کے مختلف رنگ اور عبیر اڑیں تووہ کپڑوں کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کے دلوں پر بس ایسے چھا جائیں کہ نفرت اور عداوت کے سارے رنگ پھیکے پڑ جائیں۔ یقین جانیں ، یہی اس تہوار کی اصل روح ہے، یہی بھارت کی پہچان ہے، اور یہی وہ پیغام ہے، جو آج کی آوارہ سیاست کو دھیان سے سننا اور سمجھنا چاہئے۔
************

