گورکھا لینڈ کا مسئلہ پھر گرمایا،گورکھا لیڈروں نے نتن نوین سے ملاقات کی

تاثیر 02 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

دارجلنگ، 2 مارچ : مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے گورکھا لینڈ کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی بحث میں ہے۔ پیر کو قومی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما نتن نوین کے ساتھ ملاقات میں گورکھا برادری کے نمائندوں نے اپنے دیرینہ مطالبات کو اٹھایا۔گورکھا لیڈروں نے واضح طور پر کہا کہ اگر گورکھا لینڈ کی تشکیل ممکن نہیں ہے تو شمالی بنگال کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا جائے۔ یہ میٹنگ سلی گوڑی میں بنگال بی جے پی کی ’پریورتن یاترا‘ کے ایک حصے کے طور پر ہوئی، جہاں گورکھا برادری کے نمائندوں نے روایتی گورکھا ٹوپی پہن کر نتن نوین کا استقبال کیا۔
میٹنگ میں گورکھا برادری نے پہاڑی علاقے میں مختلف مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 2007 کے ایجی ٹیشن کے بعد گورکھا لینڈ ٹیریٹوریل ایڈمنسٹریشن (جی ٹی اے) کا قیام عمل میں آیا، لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ گورکھا برادری جو کہ گورکھا لینڈ کے لیے طویل عرصے سے احتجاج کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ریاست کی تقسیم کا معاملہ بی جے پی کے لیے بھی حساس ہے، پھر بھی اس بار گورکھوں نے متبادل کے طور پر شمالی بنگال کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ اٹھایا ہے۔ میٹنگ کے بعد دارجلنگ کے بی جے پی ایم ایل اے نیرج زمبا نے کہا کہ گورکھا لینڈ کا مسئلہ اٹھانا فطری بات ہے جب گورکھوں کے ساتھ میٹنگ ہوتی ہے۔ دارجلنگ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بستا نے کہا کہ ہر کسی کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا حق ہے۔