امن و استحکام کی برقراری نئی قیادت کی ذمہ داری

تاثیر 06 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بہار کی سیاست میںاچانک آئی ہلچل کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔نتیش کمار کا تقریباً دو دہائیوں پر محیط دور کا ڈرامائی اختتام عوام بالخصوص جے ڈی یو کارکنان کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ 2025  کے اسمبلی انتخابات میں’’25 سے 30 ایک بار پھر نتیش‘‘ کے نعرے کے ساتھ این ڈی اے نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی اور نتیش کمار نے دسویں بار وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا تھا۔ محض 105 دنوں بعد ہی انہوں نے راجیہ سبھا کی طرف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ آناََ فا ناََپرچۂ نامزدگی بھی داخل ہو گئی ساتھ ہی انھوں نے وزیراعلیٰ کے عہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ ان کے حامیوں، جے ڈی یو کے کارکنوں اور عام لوگوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ثابت ہوا ہے۔ کارکنوں میں غصہ، مایوسی اور الجھن کی کیفیت ہے۔ سڑکوں پر پوسٹرز اور بینرز لگائے جا رہے ہیں، جبکہ ایک کارکن نے وزیراعلیٰ آواس کے قریب  کل دھرنا دے دیا ۔اس فیصلہ کے خلاف احتجاج پر آمادہ لوگوں کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کی ہی دین ہی بہار میں امن اور ترقی ہے، اور وہ انہیں راجیہ سبھا نہیں جانے دیں گے۔
بظاہر یہ فیصلہ اچانک نظر آتا ہے، مگر رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ تیاریاں پچھلے 15 دنوں سے جاری تھیں۔ بی جے پی کے ذرائع کے مطابق، نتیش کمار کی صحت کو بنیاد بنا کر انہیں راجیہ سبھا بھیجنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جے ڈی یو کے تین سینئر لیڈروں،راجیو رنجن للن سنگھ، سنجے کمار جھا اور وجے کمار چودھری،کے ساتھ بات چیت کی۔ ابتدا میں نتیش کے بیٹے نیشانت کو راجیہ سبھا بھیجنے کی بات ہوئی، مگر بعد میں خود نتیش کمار کو ہی قائل کر لیاگیا ۔انھیںر اجیہ سبھا  جانے کی دیرینہ حسرت یاد دلائی گئی اور سمجھایا گیا کہ ابھی موقع مناسب ہے۔ یہ کام اتنی خوبصورتی سے انجام دیا گیا کہ کسی کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔ خاندان اور پارٹی کے کچھ لوگوں کوجب معلوم بھی ہوا تو کافی دیر ہو گئی تھی۔ نتیش کمار نے خود سوشل میڈیا پر لکھا کہ انھوں نے اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے یہ فیصلہ لیا ہے۔
بہار کے موجودہ سیاسی حالات میںریاست کے عوام اس خدشے سے دوچار ہیں کہ نتیش کمار کی غیر موجودگی میں ایسا نہ ہو کہ بہار کی حالت اتر پردیش اور آسام جیسی ہو جائے۔ نتیش کمار کو بہار میں امن، سماجی ہم آہنگی، ترقی، سڑکوں کی تعمیر، بجلی اور خواتین کی حفاظت  جیسے اقدامات کی وجہ سے’’سوشل انجینئر‘‘کہا جاتا رہا ہے۔ ان کی غیر جانبداری، اقلیت، پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کی سیاست اور لُو-کش (کرمی-کوئری) اتحاد نے بہار کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے نسبتاً محفوظ رکھا۔ اب بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ کے امکان سے لوگوں کو عدم تحفظ کا احساس ستانے لگا ہے۔انھیں ڈر ہے کہ ’’ہندوتوا کا ایجنڈا ‘‘غالب آ جائے گا، جس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتخابات نتیش کے چہرے پر جیتے گئے تھے، مگر اب بی جے پی کی قیادت میں تبدیلیاں آئیں گی ،جو بہار کی مخصوص ضروریات  اور ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھیں گی۔
اِدھر راجیہ سبھا نامزدگی کے بعد سے نئے وزیراعلیٰ کی دوڑ بھی شروع ہو گئی ہے۔اس دوڑ میں بی جے پی کے سمراٹ چودھری سب سے آگے نظر آ رہے ہیں، جو نتیش کے پسندیدہ اور کوئری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دیگر ناموں میں نتیانند رائے، وجے کمار سنہا، دليپ جیسوال اور جنک رام شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، جے ڈی یو کو دو ڈپٹی سی ایم مل سکتے ہیں، جن میں نیشانت کمار کا نام بھی زیر بحث ہے، مگر خاندانی سیاست کے الزامات کی وجہ سے اسے ٹالا جا سکتا ہے۔گرچہ ایک طرف نتیش کمار نے نئی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، مگر دوسری طرف جے ڈی یو کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اگر نیشانت کمار فعال سیاست میں آئیں تو پارٹی زندہ رہ سکتی ہے، ورنہ چیلنجز بڑھ جائیں گے۔اسی سیاسی ہلچل کے دوران صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین کو بہار کا نیا گورنر مقرر کر دیا ہے، جو عارف محمد خان کی جگہ لیں گے۔ عارف محمد خان نے 2 جنوری، 2025 کو بہار کے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ حسنین ایک سینئر فوجی افسر ہیں جو کشمیر میں’’ہارٹ اینڈ مائنڈز‘‘ حکمت عملی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تقرری کو سیکیورٹی اور انتظامی استحکام کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔
بہار کے عوام کے لئے یہ تبدیلی ایک بڑےامتحان کی مانند ہے۔ نتیش کمار کے دور میں جو استحکام آیا تھا، اسے برقرار رکھنا نئی قیادت کی ذمہ داری ہوگی۔ لوگوں کی پریشانی یہ ہے کہ کیا نئی حکومت ترقی، امن اور سماجی انصاف کو ترجیح دے گی یا سیاسی ایجنڈے غالب آ جائیں گے۔ بہار کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ این ڈی اے اتحاد اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرے اور لوگوں کے خدشات کو دور کرے۔ یہ وقت ہے کہ نئی قیادت بہار کے عام آدمی کی آواز سنے اور ریاست کو مزید آگے لے جائے۔
**************