تاثیر 07 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
جموں, 07 مارچ : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کمپلائنس ریڈکشن اور ڈی ریگولیشن 2.0 پروگرام کے تحت جاری پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس قومی اقدام کا مقصد ضابطہ جاتی بوجھ کو کم کرنا اور جموں و کشمیر میں کاروبار کے لیے سازگار اور عوام دوست ماحول پیدا کرنا ہے۔اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو نہ صرف صنعتوں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوانین اور ضابطوں کا مقصد نظام کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ عوام کے لیے غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا کرنا ہے۔
حکومت جموں و کشمیر نے پروگرام کے پہلے مرحلے میں 23 ترجیحی اصلاحاتی شعبوں کی نشاندہی کی تھی اور تمام اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں ان اصلاحات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے صحت، تعلیم، سیاحت، صنعت سمیت دیگر 23 اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سرندر کمار چودھری کے علاوہ وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

