عورت صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ حوصلے، قربانی اور عظمت کی زندہ مثال ہے

تاثیر 08 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مارچ 8* کا دن پوری دنیا میں خواتین کے بین الاقوامی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ عورت نے ہر دور میں اپنی صلاحیت، حوصلے اور جدوجہد سے معاشرے میں اپنا پرچم بلند کیا ہے۔ اگر سچ پوچھا جائے تو عورت کے اندر وہ طاقت، وہ قوت اور وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ زندگی کی ہر مشکل کو برداشت بھی کرتی ہے، سنبھالتی بھی ہے اور اس کا حل بھی تلاش کرتی ہے۔بدقسمتی سے آج بھی بہت سے لوگ عورت کی قدر و منزلت کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے اور اس کی عزت نہیں کرتے، حالانکہ عورت کئی عظیم رشتوں کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہے۔
 وہ ماں ہے، جو اپنی اولاد کے لیے بے مثال قربانیاں دیتی ہے۔ وہ بیوی ہے، جو زندگی کے ہر موڑ پر اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہے۔ وہ بیٹی ہے، جو گھر کی رحمت اور خوشیوں کا سبب بنتی ہے۔ وہ بہن ہے، جو محبت اور خلوص کا پیکر ہوتی ہے۔ اسی لیے عورت حقیقت میں عزت اور احترام کے لائق ہے۔اگر ہم غور کریں تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ اگر کسی گھر میں پندرہ یا سولہ سال کا بیٹا ہو تو یہ ضروری نہیں کہ وہ گھر کی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر سنبھال سکے، لیکن اگر اسی عمر کی بیٹی گھر میں موجود ہو تو اکثر وہ گھر کی ذمہ داری کو بخوبی نبھاتی ہے۔ ماں باپ بسا اوقات اطمینان کے ساتھ گھر اس کے حوالے کر کے باہر چلے جاتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی ذمہ دار بھی ہے اور سمجھدار بھی۔ وہ گھر کو سنبھالتی ہے، حالات کو سمجھتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔عورت کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔ اسے معاشرے کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں، رشتہ داروں کی باتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں اور کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود وہ تعلیم حاصل کرتی ہے، آگے بڑھتی ہے اور اپنی ایک الگ پہچان بناتی ہے۔
 پھر ایک دن وہ اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر کسی دوسرے گھر کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے چلی جاتی ہے۔ یہی عورت کی قربانی، صبر اور حوصلے کی سب سے بڑی مثال ہے۔اسلام کی تاریخ بھی عورت کے مقام اور عظمت کی گواہی دیتی ہے۔ جب پہلی مرتبہ قرآن کریم کی وحی نازل ہوئی اور  حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اس لمحے کی ہیبت طاری ہوئی، تو اس وقت انہیں حوصلہ دینے والی شخصیت ایک عورت ہی تھیں۔ وہ عظیم ہستی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں، جنہوں نے حضور ﷺ کو تسلی دی، ان پر لحاف ڈالا اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ ایک عام انسان نہیں بلکہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ سے ایک عظیم کام لینا چاہتا ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب ایک عورت نے ایک نبی کو حوصلہ دیا، انہیں یقین دلایا اور ان کے مشن میں پہلی ساتھی بنیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ حوصلے، ہمت اور جذبے کا نام ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ عورت کی عزت کریں، اس کا احترام کریں اور اس کے حقوق کا خیال رکھیں۔ کیونکہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت کو عزت، تحفظ اور برابر کا مقام حاصل ہو۔