نلگنڈہ میں ایک جوڑے کی روایتی اور ماحول دوست شادی

تاثیر 09 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

حیدرآباد، 09 مارچ: تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے نے اپنی شادی کو روایتی اور ماحول دوست بنا کر سماج کے لئے ایک نئی اور قابلِ تقلید مثال قائم کر دی ہے۔ ناگرجنا ساگر حلقہ کے تروملگری ساگرمنڈل میں منعقدہ اس انوکھی شادی کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ منڈپ کی سجاوٹ سے لے کر مہمانوں کی ضیافت تک، کہیں بھی پلاسٹک یا کیمیکل کا نام و نشان تک نظر نہیں آیا۔ دلہن میگھنا، جو خود ایک انجینئر ہیں اور سیول سروسس کی تیاری کر رہی ہیں، نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کی شادی جدید نمود و نمائش کے بجائے فطرت کے قریب اور صحت مند روایات کی آئینہ دار ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے جیون ساتھی کوٹلیا ریڈی اورارکان خاندان کو اعتماد میں لیا جس کے بعد شادی کے منڈپ کو مصنوعی اشیاء کے بجائے ناریل کے پتوں، کھجور کی شاخوں اور آم کے پتوں کے روایتی تورن سے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا۔ ماحول دوستی کا یہ جذبہ صرف سجاوٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ لباس اور کھانے پینے میں بھی نمایاں نظرآیا۔ دلہن، دولہا اوران کے تمام ارکان خاندان نے ہاتھ سے بنے ہوئے روایتی ہینڈ لوم کپڑے زیب تن کئے جبکہ کھانے کی میز پر غیر ملکی پکوانوں یا فاسٹ فوڈ کے بجائے خالص نامیاتی طریقہ سے اگائی گئی فصلوں سے تیار کردہ سبزیوں کے پکوان پیش کئے گئے۔ مہمانوں کی تواضع باسمتی، میسور ملیکا اور نووارا جیسے روایتی چاولوں کے علاوہ تلنگانہ کے خالص ثقافتی کھانوں جیسے جوارکی روٹی، پچی پلسو، کٹھل کی بریانی اور روایتی مٹھائیوں سکنالو اور بھکشالو سے کی گئی۔ اس موقع پر دلہن میگھنا نے اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر شادیوں میں لاکھوں روپے صرف نمود و نمائش پرخرچ کئے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا پلاسٹک کا کچرا زمین اوربے زبان جانوروں کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔