ملک میں ایل پی جی کی قلت

تاثیر 12 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ایران میں جاری جنگ نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا براہ راست اثر بھارت پر بھی پڑ رہا ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی قلت نے گھریلو استعمال سے لے کر ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر تجارتی اداروں تک مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ بھارت اپنی       80-85 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے، اور یہ زیادہ تر مقدار خلیج فارس کے تنگ راستے ہرمز سے گزر کر آتی ہے۔ جنگ کی وجہ سے اس راستے میں بحری ٹریفک تقریباً رک گئی ہے، نتیجتاً کئی ریاستوں میں کمرشیل سِلنڈروں کی شدید کمی ہو گئی ہے۔ گھریلو صارفین کو ترجیح دی جانے کی وجہ سے تجارتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
دہلی، ممبئی، بنگلورو، چنئی اور کولکتہ جیسے بڑے شہروں میں ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں نے گیس کی کمی کی وجہ سے کچھ خدمات معطل کر دی ہیں۔ کئی جگہوں پر انڈکشن سٹووز اور لکڑی/کوئلے کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔ جنوبی دہلی کے ایک ریسٹورنٹ مالک کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمرشیل  سِلنڈر اب 5 ہزار روپے میں دستیاب ہیں، جو عام قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تامل ناڈو کے ہاسٹلز میں چائے، کافی اور ڈوسہ جیسی اشیاء کی سروس بند کر دی گئی ہے۔ اس بحران نے نہ صرف عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ ہوٹل انڈسٹری کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی یہ معاملہ گرم ہے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً کانگریس اور ٹی ایم سی، حکومت پر تنقید کر رہی ہیں۔ لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بیان دینے کی اجازت نہ ملنے پر کل خوب ہنگامہ ہوا، جبکہ چھتیس گڑھ اسمبلی میں 30 کانگریس ارکان کو معطل کیا گیا۔ ممتا بنرجی نے کولکتہ میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا ہےکہ وزیراعظم خود پریشان ہیں، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے نہیں گھبرانے کی اپیل کی ہے۔ساتھ ہی درست معلومات عام لوگوں تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔
حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کیے ہیں۔ ریفائنریز کو گھریلو پیداوار بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے، جس سے پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گھریلو صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو کمرشیل سپلائی جاری رکھی جا رہی ہے۔ امریکہ، ناروے اور افریقہ سے متبادل درآمد کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں، جیسے پٹنہ میں 0612-2219810 نمبر جاری کیا گیا ہے۔ جمع خوری اور کالابازاری روکنے کے لئے ضروری اشیاء ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی ہدایت ہے۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو روزانہ مانیٹرنگ اور غلط معلومات پھیلانے والوں پر نظر رکھنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بحران عالمی سطح پر ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ بھارت جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن حکومت کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ پی ایم نریندر مودی کی قیادت میں ٹیم دن رات کام کر رہی ہے تاکہ سپلائی بحال ہو اور عوام کو پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔
یہ ایل پی جی بحران ایک عالمی صورتحال کا نتیجہ ہے، جس کا مقابلہ بھارت نے ماضی میں بھی کامیابی سے کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے گھریلو پیداوار میں اضافہ، متبادل درآمد کے ذرائع کی تلاش اور جمع خوری پر سخت نگرانی جیسے اقدامات سے واضح ہے کہ حالات پر جلد ہی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے بھارتی جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت کی اطلاع ایک مثبت پیش رفت ہے۔ عوام کو بھی گھبراہٹ سے بچنا چاہئے، سرکاری ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور صرف تصدیق شدہ معلومات پر بھروسہ کرنا چاہئے۔بھارت کی مضبوط انتظامی مشینری، عوامی تعاون اور حکمت عملی سے یہ بحران جلد ہی ختم ہو جائے گا اور روزمرہ زندگی معمول پر آ جائے گی۔ یہ وقت صبر، اتحاد اور امید کا ہے۔اور امید ہے کہ چند ہفتوں کے اندر ہی گھریلو اور تجارتی دونوں سطح پر گیس کی سپلائی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی۔اس سلسلے میں حکومت بے حد سنجیدہ ہے۔
**********