تاثیر 14 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،14مارچ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جزیرہ خرج کو ’ایرانی تاج کا ہیرا‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے تہران کی خام تیل کی برآمدات کے اس اہم مرکز میں موجود تمام فوجی اہداف کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دیا ہے۔آج ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا بند نہ کیا تو اس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فی الحال جزیرے کی تیل کی تنصیبات کو تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اگر ایران یا کسی اور نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سلامتی میں مداخلت کی تو وہ فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی طاقتور ترین فضائی کارروائیوں میں سے ایک انجام دیتے ہوئے جزیرہ خرج کے ہر فوجی ہدف کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ان حملوں کی ایک وڈیو بھی جاری کی۔دوسری جانب ایرانی وزارت پٹرولیم کے ایک اہل کار نے ان حملوں کو “انتہائی تباہ کن” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ دو گھنٹے تک جاری رہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ گیس و تیل کی تنصیبات پر کوئی بھی حملہ ایرانی برآمدات کے بڑے حصے کو فوری طور پر روک دے گا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک امریکی فوجی عہدیدار نے تصدیق کی کہ ان ضربوں میں تیل کے ڈھانچے کو بچایا گیا ہے اور صرف ایرانی میزائلوں و بارودی سرنگوں کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جنہیں ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے استعمال کرتا تھا۔ایرانی ذرائع نے بھی جزیرے سے دھوئیں کے بادل اٹھنے اور 15 سے زائد دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تردید کی ہے۔جوابی کارروائی کے طور پر ایرانی فوج نے خطے میں امریکہ سے وابستہ توانائی اور تیل کی تمام تنصیبات کو “راکھ کے ڈھیر” میں بدلنے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی عسکری ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیائ” کے ترجمان نے کہا کہ اگر ایران کے معاشی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود ان تمام کمپنیوں کی تنصیبات تباہ کر دی جائیں گی جن میں امریکہ کا حصہ ہے یا جو اس کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔واضح رہے کہ جزیرہ خرج ایران کی 90 فی صد خام تیل کی برآمدات سنبھالتا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ہن

