تاثیر 16 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 16 مارچ : مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے درمیان، مرکزی حکومت ملک کے اندر توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے، تجارتی جہازوں کے محفوظ انخلاءاور ہندوستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہیں ہے اور تقسیم کار ایجنسیوں کے پاس مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ ایل پی جی سے لدا ایک جہاز اس وقت ہندوستانی ساحل کی طرف جا رہا ہے۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گھریلو صارفین کو بلا تعطل سپلائی مل رہی ہے، اور ملک میں کہیں بھی ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر اسٹاک کی کمی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی تقریباً 90 فیصد بکنگ اب آن لائن کی جاتی ہیں، اور ‘ڈیلیوری تصدیقی کوڈ’ کا استعمال بڑھ کر 72 فیصد ہو گیا ہے۔ ریاستی حکومتوں نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف اپنا کریک ڈاو¿ن تیز کر دیا ہے۔ مزید برآں، پی این جی اور ایل پی جی دونوں کنکشن رکھنے والے صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کریں اور گھبراہٹ میں بکنگ کرنے سے گریز کریں۔

