کولکاتا میں بڑی آنت کے کینسر سے متعلق آگاہی تشویشناک حد تک کم: سروے

تاثیر 17 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا: مارچ کو دنیا بھر میں کولو ریکٹل کینسر آگاہی ماہ کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کولکاتا کے شہریوں میں اس مہلک بیماری کے بارے میں آگاہی نہایت کم ہے۔ ملک کے 14 شہروں میں کیے گئے لائف اسٹائل اینڈ ڈائجسٹو ہیلتھ اویئرنیس سروے کے مطابق کولکاتا میں صرف 9.3 فیصد افراد پاخانے میں خون کو بڑی آنت کے کینسر کی علامت کے طور پر پہچانتے ہیں۔ سروے کے مطابق 91.9 فیصد افراد آنتوں کی عادت میں تبدیلی کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کرتے ہیں، جبکہ 75.7 فیصد افراد بے قاعدہ نظامِ ہضم کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ 44.1 فیصد افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں، جو معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑی آنت کا کینسر بروقت تشخیص ہونے پر قابلِ علاج ہے، لیکن علامات کو نظر انداز کرنے اور خود علاج کرنے کے رجحان کی وجہ سے اکثر کیس دیر سے سامنے آتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ پاخانے میں خون، پیٹ میں درد، کمزوری اور وزن میں غیر معمولی کمی جیسی علامات کو ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔
ماہرین نے صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، تمباکو سے پرہیز اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ کو اس بیماری سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری قرار دیا ہے۔