کانگریس نے وی بی ایس اے بل کو وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی قرار دیا

تاثیر 19 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 19 مارچ: کانگریس پارٹی نے اعلی تعلیم کے انضبادطی فریم ورک میں مجوزہ تبدیلیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) جیسے کلیدی اداروں میں بڑی تعداد میں خالی عہدوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا وکاس بھارت شکشا ادھیسٹھان (وی بی ایس اے ) بل 2025 تشویشناک ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) اور ایم پی جے رام رمیش نے پارٹی کا ایک سرکاری خط جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو موجودہ شکل میں بل پر سات اعتراضات ہیں۔ تعلیم آئین کی کنکرنٹ لسٹ(ہم درجہ فہرست) میں ہے، لیکن اس بل کے مسودے میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ یہ وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بل میں مالی معاونت دینے والی کونسلکی تجویز نہیں ہے، جبکہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں اس کا واضح ذکر تھا۔ اس سے مالی مدد دینے کا اختیار اکیڈمک اداروں سے نکل کر وزارت کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ اس سے اعلیٰ تعلیم کی مرکزیت ہوگی اور تعلیمی آزادی متاثر ہوگی۔ جے رام رمیش نے کہا کہ نئے نظام کے تحت یو جی سی، اے آئی سی ٹی ای اور این سی ٹی ای کا نظم و نسق اب ماہرین تعلیم کے بجائے نوکرشاہوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس سے تعلیم کی حکمرانی کو تعلیمی نقطہ نظر سے انتظامی نقطہ نظر سے منتقل ہو جائے گا۔