جنگ کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں

تاثیر 23 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پچھلے چند ہفتوں سے مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی تصادم نے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کا راستہ ہے، اب ایک خطرناک میدان جنگ بن چکا ہے۔ اس درمیان ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی ایف-15 فائٹر جیٹ کو مار گرایا ہے، جبکہ امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔ یہ دعویٰ ٹرمپ کی 48 گھنٹوں کی الٹی میٹم کے فوراً بعد سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہیں کھلا تو ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیا جائے گا۔ ایران نے جواب میں کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں پورے خلیجی علاقے میں اندھیرا چھا جائے گا۔
ایران کے دو اہم حملوں—قطر کے ’’راس لفان‘‘ گیس پلانٹ پر میزائل حملہ اور بحر ہند میں ’’ڈیگو گارسیا‘‘ امریکی-برطانوی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش نے امریکہ کی حکمت عملی کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ راس لفان پر حملے سے دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پروڈکشن سینٹر کی پیداوار میں تقریباً 17 فیصد کمی آ گئی ہے، جس سے عالمی گیس کی قیمتیں آسمان چھو گئی ہیں اور امریکی کمپنیوں سمیت عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ ڈیگو گارسیا پر حملے کی کوشش، جو تقریباً 4 ہزار کلومیٹر دور ہے، ایران کی میزائل صلاحیت کی حد کو ظاہر کرتی ہے۔ گرچہ یہ حملے ناکام رہے،ایک میزائل راستے میں گر گیا اور دوسرا امریکی بحری جہاز نے روک لیا،مگر انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیت اب بھی مضبوط ہے اور وہ دور دراز کے اہداف تک پہنچ سکتا ہے۔ ظاہر ہے، اس سے ایران کی مزاحمتی صلاحیت واضح ہوتی ہے، جو امریکہ کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
ادھر امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے تحت ایران کی فضائیہ، بحریہ اور میزائل سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن ایران کے جواب میں اسرائیل کے ڈیمونا اور اراد جیسے شہروں پر حملے اور دیگر کارروائیاں اس کی طاقت کو برقرار رکھنے کا ثبوت ہیں۔ ٹرمپ اب جنگ کو کم کرنے اور ’’ونڈنگ ڈاؤن‘‘ یعنی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو تدریجی طور پر کم کر کے ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے اہداف،ایران کی میزائل اور نیوکلیئر صلاحیت کو کمزور کرنا،تقریباً پورے ہو چکے ہیں۔ عالمی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے امریکی معیشت پر دباؤ، خلیجی اتحادیوں میں عدم اطمینان اور ایران کی لمبی رینج میزائلوں نے ٹرمپ کو نرمی کی طرف مائل کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ’’ونڈنگ ڈاؤن‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے، مگر ہرمز کی بندش جاری رہنے سے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس بحران میں بھارت کی پوزیشن انتہائی محتاط اور دانشمندانہ ہے۔ پی ایم نریندر مودی نےکل 22 مارچ کی شام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ اور پیٹرولیم وزیر سمیت سینئر افسران شریک تھے۔ اجلاس کا مقصد تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی کو یقینی بنانا تھا۔پی ایم مودی نے ایران کے صدر مسعود پژیشکیان سے بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران پی ایم نے علاقائی استحکام اور بحری راستوں کی آزادی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی۔ بھارت نے ہمیشہ امن اور سفارتکاری کی حمایت کی ہے، اور اس بحران میں بھی توانائی کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے خطے میں استحکام کی اپیل کی ہے۔
بہر حال مشرق وسطیٰ کا یہ تنازعہ اب صرف علاقائی نہیں رہ گیا  ہے ۔ یہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور امن کے لئے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت پچھلے دنوں یعنی 19 مارچ کو، فی بیرل 119 ڈالر تک پہنچ گئی تھی ، مگر 21 مارچ کو یہ قیمت تھوڑی کم ہوکر  فی بیرل 109 ڈالر کے قریب بند ہوئی تھی، حالانکہ یہ شرح بھی بھارت جیسے درآمد کنندگان کےلئے بھاری بوجھ ہے۔ویسے ایران کی مزاحمت اور امریکہ کی حکمت عملی میں تبدیلی سے جنگ کے خاتمے کی طرف اشارے ضرورملتے ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہنے سے مزید تباہی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ بھارت جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کےلئے یہ صورتحال گویا ایک بڑٓ چیلنج ہے، لیکن مودی حکومت کی فعال نگرانی، متبادل سپلائی ذرائع کی تلاش اور سفارتی کوششیں ملک کے مفادات کی حفاظت میں منہمک ہیں۔امید ہے کہ کچھ دنوں میں سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی اور خطہ امن کی طرف لوٹے گا، کیونکہ یہ بات فریقین بھی اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ جنگ کا تسلسل کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔