مظفرپور کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی، ای میل ملتے ہی مچا ہنگامہ، پورا احاطہ خالی

تاثیر 26 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈسپوزل ٹیم کی کئی گھنٹوں تک تلاشی، دوپہر بعد حالات معمول پر
مظفرپور ( نزہت جہاں)
ضلع کے دیوانی عدالت (بہار کورٹ) احاطے میں اُس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ضلع جج کو ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوا۔ اس ای میل میں فیملی کورٹ کو بم سے اڑانے کی صاف دھمکی دی گئی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پورے کورٹ احاطے میں افرا تفری مچ گئی اور وکلا، سائلین اور عملہ شدید خوف میں مبتلا ہو گئے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ فوراً حرکت میں آ گئی۔ بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچی اور سب سے پہلے فیملی کورٹ کے آس پاس کے علاقے کو خالی کرایا گیا۔ احتیاطی طور پر پٹنہ سے ڈاگ اسکواڈ اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا، جنہوں نے جدید آلات کی مدد سے عدالت کے کمروں، راہداریوں اور اطراف کے علاقوں کی باریکی سے تلاشی لی۔ دھمکی کے بعد انتظامیہ نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے مارننگ شفٹ کی تمام عدالتی کارروائیاں روک دیں۔ سیکورٹی کے پیش نظر پورے احاطے کی ناکہ بندی کر دی گئی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ سرچ آپریشن کے دوران لوگوں کو باہر رہنے کی ہدایت دی گئی۔
کئی گھنٹوں کی تلاشی کے بعد جب کوئی مشتبہ چیز برآمد نہیں ہوئی تو حکام نے راحت کی سانس لی۔ اس کے بعد دوپہر میں دوبارہ عدالتی کارروائی شروع کی گئی، لیکن اس بار سیکورٹی پہلے سے کہیں زیادہ سخت رہی۔ داخلی دروازوں پر پولیس کی تعداد بڑھا دی گئی اور ہر آنے والے کی سخت تلاشی اور شناختی جانچ کے بعد ہی اندر جانے دیا گیا۔ فی الحال پولیس اس دھمکی آمیز ای میل کے سورس کا پتہ لگانے میں مصروف ہے۔ سائبر سیل کی مدد سے آئی پی ایڈریس اور بھیجنے والے کی شناخت کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کسی کی شرارت بھی ہو سکتی ہے، لیکن سیکورٹی کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جائے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی لاوارث یا مشتبہ چیز کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔