الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 2026 کے اسمبلی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ پانچ ریاستوں اور یونین ٹیریٹری، مغربی بنگال، آسام، تامل ناڈو، کیریلا اور پڈوچیری میں ووٹنگ 9 اپریل سے 29 اپریل کے درمیان ہوگی جبکہ تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ایک ساتھ کی جائے گی۔ یہ انتخابات تقریباً 824 سیٹوں پر ہوں گے۔بلاشبہ ان انتخابات کا قومی سیاست پر گہرا اثر مرتب ہوگا۔
مغربی بنگال کی 294 سیٹوں والی اسمبلی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز ہے۔ یہاں دو مراحل میں ووٹنگ ہوگی: پہلا مرحلہ 23 اپریل کو 152 سیٹوں پر اور دوسرا مرحلہ 29 اپریل کو 142 سیٹوں پر۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے 291 سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دارجیلنگ ہلز کی تین سیٹیں اتحادی بھارتیہ گورکھا پرجاتانترک مورچا (بی جی پی ایم) کےلئےچھوڑ دی گئی ہیں۔ ممتا بنرجی خود بھوانی پور سیٹ سے انتخاب لڑیں گی، جہاں بی جے پی نے اپنے لیڈر آف اپوزیشن سوویندو ادھیکاری کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی نے بھی امیدواروں کی فہرستیں جاری کر دی ہیں۔چنانچہ ریاست میں کڑا اور دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔
کیریلا کی 140 سیٹوں والی اسمبلی کے انتخابات کی بات کریں تو وہاں ایک ہی مرحلے میں9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔چنانچہ وہاں سیاسی مہم جوئی کافی تیز ہے، تاہم کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف کے اندر شدید داخلی خلفشار بر پاہے۔ پارٹی نے اب تک سرکاری طور پر چیف منسٹر کے چہرے کا اعلان نہیں کیا ہے، البتہ رمیش چنیتھلا، وی ڈی ستیشن، کے سی وینوگوپال اور کے سدھاکرن جیسے ناموں پر بحث اور رسّہ کشی زوروں پر ہے۔گزشتہ روز تیروالا میں منعقدہ ایک انتخابی پروگرام میں سینئر لیڈر پی جے کورین نے رمیش چنیتھلا کو چیف منسٹر کا سب سے موزوں امیدوار قرار دیا۔ اس کے برعکس کوزھیکوڈ میں یو ڈی ایف کے ایک جلسے کے دوران کچھ کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے رمیش چنیتھلا کی تصاویر پھاڑ دیں۔ اس تنازع پر دونوں بڑے لیڈرز—رمیش چنیتھلا اور وی ڈی ستیشن نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جیت ہی سب سے بڑی ترجیح ہے اور چیف منسٹر کا فیصلہ ہائی کمان کی سطح سے ہوگا۔ دریں اثناء کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے واضح کیا کہ کیریلا میں حقیقی لڑائی یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف کے درمیان ہے، اس لیے بی جے پی کو ووٹ دینا بالکل فضول ہے۔ دوسری جانب کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے پراعتماد انداز میں دعویٰ کیا کہ کیریلا میں یو ڈی ایف کی شاندار جیت ہوگی اور عوام تبدیلی کے لئے بے تاب ہیں۔
آسام میں بھی 9 اپریل کو ایک مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ کانگریس نے یہاں بی جے پی کی موجودہ حکومت کے خلاف بدلاؤ کا نعرہ لگایا ہے۔ تامل ناڈو میں 23 اپریل کو اور پڈوچیری میں 9 اپریل کو ووٹنگ شیڈول ہے۔ یہ انتخابات علاقائی سیاست کے رنگ لیے ہوئے ہیں، جہاں مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی تیسری یا چوتھی مدت، کیریلا میں پینارائی ویجین کی حکومت کے خلاف اینٹی انکمبینسی، اور آسام میں بی جے پی کی پوزیشن کا امتحان ہوگا۔ویسے ان انتخابات میں کئی چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ ووٹر لسٹ کی شفافیت، امیدواروں کی حتمی فہرست سازی میں تاخیر، داخلی اختلافات، ٹکٹ کی مبینہ خرید و فروخت کے الزامات اور سیاسی لیڈروں کے متنازع بیانات انتخابی عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کر چکا ہے اور غیر قانونی فنڈنگ، شراب، منشیات اور مفت تحائف کی روک تھام پر خاص توجہ دے رہا ہے۔
ظاہر ہےیہ انتخابات بھارت کی جمہوریت کی مضبوطی کا آئینہ ہیں۔مغربی بنگال میں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان براہ راست ٹکراؤ ہے جبکہ کیریلا میں کانگریس کا داخلی تنازع اس کی تنظیم کو کمزور کر سکتا ہے۔ اگر یو ڈی ایف متحد ہوا تو اینٹی انکمبینسی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ ذاتی حملوں، جھوٹی خبروں اور داخلی خلفشار کی بجائے ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور قانون و انتظام جیسے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔الیکشن کمیشن کو ووٹر لسٹ کے تنازعات کو شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے حل کرنا چاہئے تاکہ تمام پارٹیوں کو برابر مواقع میسر آسکیں۔بہر حال4 مئی کے نتائج نہ صرف ان ریاستوں کی حکومتوں کا فیصلہ کریں گے بلکہ قومی سطح پر سیاسی توازن کو بھی متاثر کریں گے۔ ملک کے تمام سنجیدہ اور مثبت فکر رکھنے والوں کوامید ہے کہ یہ انتخابات پرامن، شفاف اور آئینی اقدار کے مطابق مکمل ہوں گے، جو بھارت کی کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی وحدت کو مزید مستحکم کریں گے۔ ووٹرز کو بھی باخبر، ذمہ دار اور غیر جانبدار فیصلہ کرنا ہوگا۔
*******************

