تاثیر 28 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
بہار میں ان دنوں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا رکن منتخب ہونے کے بعد ایم ایل سی کے عہدے سے ان کے استعفے کی خبریں گرم ہیں۔سننے میں آ رہا ہے کہ کل 30 مارچ کو وہ ایم ایل سی کی رکنیت سے دست بردار ہونےوالے ہیں، جبکہ آئین کے تحت وہ ستمبر 2026 تک وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان حالات میں جے ڈی یو کے ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کا بیان اور نتیش کے بیٹے نشانت کمار کی حمایت میں جاری پوسٹرزمہم موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہار کے عوام کے ساتھ ساتھ جے ڈی یو کے بیشتر رہنما نتیش کمار کو ہی وزیر اعلیٰ کے طور پر آگے بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔اور کسی وجہ سے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کے بیٹے نشانت کمار کو یہ ذمہ داری سونپنے کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔
جد یو کے سینئر لیڈر اور ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’’بہار میں فی الحال وزیر اعلیٰ کے عہدے کی کوئی ویکنسی نہیں ہے۔ نتیش کمار بہار کے بیٹے ہیں، چنانچہ وہ بہار میں رہ کر ہی عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ڈاکٹر خالد انور کا کہنا تھا کہ جو لوگ نتیش کے جانے کی اٹکلیں لگا رہے ہیں، وہ ان کی شخصیت اور بہار کے ساتھ ان کے اٹوٹ رشتے کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ نتیش کمار اب بھی بہار کو بخوبی چلا رہے ہیں۔ خالی جگہ تب بنے گی جب وہ بذات خود استعفیٰ کا فیصلہ کریں، اور ابھی ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ڈاکٹر خالد انور نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ راجیہ سبھا جانا نتیش کمار کا ذاتی فیصلہ ہے۔ اگر وہ دہلی بھی چلے جائیں تو بھی بہار کی سیاسی طاقت انھیں کی شخصیت میں مضمر ہو گی۔ انہوں نے زور دیا ہےکہ بہارکےعوام نے نتیش کمار اور پی ایم نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا ہے۔ این ڈی اے کا اٹوٹ گٹھ بندھن ہے۔ اگر نتیش کمار کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کریں تو بھی وہ ان کی وراثت کو آگے بڑھانے والا ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، پٹنہ میں جے ڈی یو کارکنوں نے جگہ جگہ پوسٹر لگائے ہیں، جن میں نتیش کمار سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ نہ چھوڑیں۔ پوسٹرز پر لکھا ہے:’’کیوں کر رہے ہیں آپ ایسا خیال، جب بہار واسیوں کو قبول نہیں کہ آپ وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔‘‘ ان پوسٹرز پر نشانت کمار کی تصویر کے نیچے لکھا ہے:’’فیوچر سی ایم آف بہار‘‘۔ جے ڈی یو کے رہنما اننت سنگھ نے بھی نشانت کمار کو نتیش کا ممکنہ جانشین قرار دیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ نشانت میں وزیر اعلیٰ بننے کے تمام اوصاف موجود ہیں۔
اِدھرماہرین کا کہنا ہے کہ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد ایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ ، آئین کا تقاضہ ہے، لیکن اس سے ان کی وزیر اعلیٰ کی حیثیت فوری طور پرمتاثر نہیں ہوگی۔ بہار اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 164(4) کے تحت نتیش کمار ستمبر 2026 تک وزیر اعلیٰ رہ سکتے ہیں۔ جے ڈی یو نے بی جے پی کی ’’چونکانے والی حکمت عملی‘‘ سے فاصلہ رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بہار جیسی ریاست میں جہاں ذاتی اور سماجی توازن بہت حساس ہے، اچانک فیصلے الٹا اثر ڈال سکتے ہیں۔ پارٹی کی ’’لکشمن ریکھا‘‘ یہ ہے کہ نیا سی ایم نتیش کی پسند کا ہو، جو ان کی وراثت، سیاست اور سماجی گٹھ بندھن کو آگے بڑھائے۔ جے ڈی یو نے دیگر این ڈی اے اتحادیوں جیسے لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، ہندوستانی عوام مورچہ اور راشٹریہ لوک مورچہ کو بھی اعتماد میں لینے پر زور دیا ہے۔
مانا جا رہا ہے کہ بہار کے عوام اور جے ڈی یو کے کارکنوں کا پیغام واضح ہے۔ نتیش کمار کی طویل قیادت نے ریاست میں ترقی، قانون و نظم اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رکھی ہے۔ ’’سمردھی یاترا‘‘ کو مخالفین الوداعی یاترا قرار دے رہے ہیں، لیکن جے ڈی یو کا موقف ہے کہ یہ ترقیاتی کاموں کی جانچ اور نئی شروعات کا ذریعہ ہے۔ کارکنوں کی فعال حمایت، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں میں نشانت کمار کی طرف بڑھتی دلچسپی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی نتیش کی قیادت کو جاری رکھنے یا اس کی توسیع چاہتی ہے۔
واضح ہو کہ بہار کی سیاست میں ذاتی، سماجی اور اتحادی توازن انتہائی اہم ہے۔ جے ڈی یو کی 85 اسمبلی اراکین کی تعداد بی جے پی سے صرف چار کم ہے۔یعنی پارٹی سیاسی طور پر بھی بے حد مضبوط ہے۔ ایسے میں ریاست میں نئی قیادت کا انتخاب اگر نتیش کی مرضی اور عوامی امنگوں کے مطابق ہو تو ریاست کی ترقی کا سفر جاری رہ سکتا ہے۔ فی الحال، نتیش کمار کی قیادت میں بہار کو استحکام کی ضرورت ہے۔ اگر وہ بذات خود عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کریں تو بھی جانشین ان کی ہی پسند کا ہونا چاہئے تاکہ بہار کی عوامی امنگوں اور این ڈی اے کے گٹھ بندھن کو کوئی نقصان نہیں پہنچے۔ایسے میں یہ مانا جا رہا ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں حاصل ہونے والا اعتماد پارٹی اور عوام دونوں کی مشترکہ آواز ہے۔ چنانچہ آئندہ چند دنوں میں ہونے والے فیصلوں سے بہار کی سیاسی سمت کا تعین ہوگا، لیکن موجودہ اشارے یہ بتاتے ہیں کہ نتیش کمار کی قیادت یا ان کی براہ راست توسیع ہی بہار کی ترقی اور استحکام کا ضامن ہے۔
********

