تاثیر 30 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ماسکو/کیف، 29 مارچ :: یوکرین کے مسلسل ڈرون حملوں نے روس کے تیل برآمد کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں، ایک اہم پائپ لائن پر حملے اور ٹینکرز کو قبضے میں لینے کے بعد روس کی تیل کی برآمدی صلاحیت کا کم از کم 40 فیصد مفلوج ہو چکا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ روس کے تیل برآمد کرنے والے بڑے مرکز، است-لوگا بندرگاہ پر ڈرون حملے میں کم از کم ایک تیل لوڈ نگ پیئرمکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے اور دوسرا شدید نقصان پہنچا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا این بی سی اور دیگر رپورٹس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے لیکج کے باعث لگنے والی آگ اور حملے سے نہ صرف برتھ بلکہ کئی اسٹوریج ٹینک اور تکنیکی انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا۔ اس سے قبل 23 مارچ کی رات یوکرین نے روس کی تیل کی بڑی بندرگاہ پریمورسک پر حملہ کیا تھا جس سے بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی تھی۔ اس آگ کی لپیٹ میں کئی برتھیں اور دو ٹینکر جل گئے۔ اس کے بعد 25 مارچ کی رات اور پھر 27 مارچ کو یوکرین کے ڈرونز نے ایک بار پھر است لوگا اور پریمورسک کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا۔ یہ دونوں بندرگاہیں بحیرہ بالٹک کے علاقے میں روس کے تیل کی برآمد کے اہم ترین مراکز سمجھی جاتی ہیں۔
یہ شٹ ڈاو¿ن روس کی تیل کی سپلائی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اور یہ خلل ماسکو پر ایک ایسے وقت میں نمایاں دباو¿ کا شکار ہے جب ایران کی جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتیں فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ روس کی تیل کی پیداوار قومی بجٹ کے لیے آمدنی کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے اور اس کی 2.6 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے لیے ضروری ہے۔

