تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
ایران پر امریکی فوج کے ممکنہ زمینی حملے کی خبریں گرم ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پینٹا گون ایران میں کئی ہفتوں تک محدود زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس میں اسپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ فوج کے چھاپہ مار حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں تہران ٹائمز نے اپنے خاص ایڈیشن میں واضح پیغام دیا ہے کہ ’’جہنم میں تمہارا استقبال ہے‘‘۔ اس میں لکھا گیا کہ ’’ایران کی سرزمین پر قدم رکھنے والے امریکی فوجی صرف تابوتوں میں واپس لوٹیں گے‘‘۔ بھارت میں واقع ایرانی سفارتخانے نے بھی تہران ٹائمز کے اسی پیج کو شیئر کرتے ہوئے یہی پیغام دہرایا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جنگ کے 30ویں دن ایک مضبوط بیان جاری کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دشمن عوامی طور پر بات چیت کے اشارے د ے رہا ہے جبکہ پردے کے پیچھے زمینی حملے کی سازش رچ رہا ہے۔ امریکہ کی ایک 15 نکاتی فہرست کو انہوں نے’’ان کی وہ خواہشیں‘‘ قرار دیا ہے،جنہیں وہ جنگ سے حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ قالیباف نے واضح کیا کہ ایرانی فوجیں امریکی فوجیوں کے زمین پر اترنے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ ان پر آگ برسائی جا سکے۔ انہوں نے عربی میں کہا کہ ایران کا پیغام بالکل صاف ہے: وہ کوئی بھی ذلت آمیز حرکت ‘‘ قبول نہیں کرے گا۔
یہ بیانات محض جذبات نہیں بلکہ ایک طویل جارحیت کے جواب میں دفاعی مزاحمت کی آواز ہیں۔ 28 فروری، 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر اچانک فضائی حملے شروع کر دئے تھے، جو اب زمینی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ جنگ در اصل ایران کی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور اس کی مزاحمتی پالیسی کے خلاف تھی۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر تسلط قائم کرنے، اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے اور علاقائی اتحادیوں کو کمزور کرنے کی نیت سے یہ جنگ تھوپ رہے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ خود کو ایک خودمختار اسلامی جمہوریہ کے طور پر پیش کیا جو مغربی استعماری ایجنڈے کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔
ظاہر ہے،ایران حق بجانب ہے۔ یہ جنگ ایران کی سرزمین پر مسلط کی گئی ہے۔ ایران نے نہ تو امریکہ پر حملہ کیا اورنہ اسرائیل پر جارحیت کا آغاز کیا۔ بلکہ اس نے اپنے دفاع، علاقائی وقار اور عوامی مطالبات کے مطابق جواب دیا ہے۔ تہران ٹائمز کا ’’جہنم میں استقبال‘‘ والا پیغام اسی دفاعی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کوئی بھی بیرونی طاقت ایران کی سرزمین پر قدم رکھ کر بغیر اس کی بھاری قیمت چکا ئےنہیں نکل سکے گی۔ ایرانی فوج، پاسداران انقلاب اور عوام کی متحدہ قوت اس بات کی ضمانت ہے کہ زمینی حملہ امریکی فوجیوں کے لئے تباہی کا باعث بنے گا۔
بھارت کے عوام اس معاملے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چند استثنائی آوازوں کو چھوڑ کر عام بھارتی، خصوصاً مسلمان کمیونٹی اور انصاف پسند طبقات، ایران کی مزاحمت کو حق کی لڑائی سمجھتے ہیں۔ بھارت اور ایران کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط ہیں۔ چابہار بندرگاہ، تیل کی درآمد اور علاقائی استحکام میں دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات ہیں۔ بھارتی عوام جانتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔ آبنائےہرمز سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے عالمی معیشت، بشمول بھارت، کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
ایرانی قیادت کا موقف واضح ہے: وہ بات چیت کے لئے تیار ہے لیکن ذلت برداشت کرنے اور ہتھیار ڈالنے کی شرط پر نہیں۔ قالیباف کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کی آڑ میں سازشوں کا شکار نہیں ہوگا۔گرچہ پاکستان نے بات چیت کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں ملے ہیں، مگر امریکہ کی 15 نکاتی فہرست اور زمینی تیاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن اصل میں اس خطے پر غلبہ چاہتا ہے۔حالانکہ ایران کی مزاحمت نہ صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لئے ہے بلکہ خطے میں استعماری طاقتوں کے خلاف ایک مثال قائم کر رہی ہے۔ بھارت جیسے ملک کو اس جنگ میں غیر جانبداری اختیار کرنی چاہئے، مگر عوامی سطح پر انصاف کی فلک شگاف آواز بلند ہونی چاہئے۔ ایران کی سرزمین پر کوئی بھی زمینی حملہ علاقائی امن کے لئے خطرناک ہوگا اور اس کے نتیجے میں بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔
لہٰذا،اس وقت ضرورت ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً بھارت، چین اور روس جیسے ممالک، جنگ بندی اور حقیقی مذاکرات کا مطالبہ کریں۔ ایران حق پر ہے ۔ اس کی دفاعی مزاحمت کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ’’جہنم میں استقبا ل‘‘ کا پیغام امریکی جارحیت کے خلاف ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل اپنی جارحیت کو مزید جاری رکھتے ہیں تو خطہ مزید خونریزی اور عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ ایران کی قوم، جو صبر، حوصلہ اور ایمان کی قوت سے لیس ہے، اپنے حق کے لئے ڈٹی ہوئی ہے۔ اور بھارت کے عوام حق کی حمایت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔
**********

