ممتاز ناول نگار عبد الصمد ساہتیہ اکادمی کی با وقار فیلو شپ سے سرفراز

تاثیر 31 مارچ ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

ملک بھر کے ادبا و شعرا نے اکادمی کے اِس فیصلے کا استقبال کیا اور عبد الصمد کو مبارک باد دی
صفدر امام قادری
شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
نام وَر ناول نگار پروفیسر عبد الصمد کو ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء کی ساہتیہ اکادمی کی جنرل کونسل کی میٹنگ میں اکادمی کے سب سے بڑے اعزاز ساہتیہ اکادمی فیلو شپ دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اُن کے اڑیا زبان سے متعلّق معروف ادیبہ پرتبھا رائے اور سندھی کے معروف مصنّف لکھمی کھلانی کو بھی یہ قومی فیلو شپ عطا کی گئی ہے۔ ساہتیہ اکادمی اگر چہ ہندستان کی بائیس زبانوں کی بہترین کتابوں پر ہر سال انعامات دیتی ہے مگر اُس ادارے کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اب تک چنندہ افراد کو ہی میسّر آیا ہے۔ اردو کی حد تک غور کریں تو عبد الصمد سے پہلے یہ قومی فیلو شپ فراق گورکھ پوری، قرۃ العین حیدر اور گوپی چند نارنگ کو تفویض ہوئی ہے۔ ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ عبد الصمد کو ۱۹۹۱ء میں ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ اُن کے مشہور ناول ’دو گز زمین‘ کے لیے دیا گیا تھا۔
ساہتیہ اکادمی فیلو شپ کی اطّلاع ملنے کے بعد عبد الصمد کو مبارک باد پیش کرنے والوں میں پروفیسر صفدر امام قادری، کلکتہ سے تشریف فرما معروف ناول نگار شبّیر احمد، معروف نقّاد ابو ذر ہاشمی اور مقصود دانش کے بہ شمول شاعر اسماعیل نذر نے اُ ن کی رہائش ’رجنی گندھا‘ اپارٹمنٹ میں ملاقات کی اور اُنھیں اِس قدر دانی کے لیے حق دار قرار دیتے ہوئے اِس موقعے کو تاریخی قرار دیا۔ عبد الصمد کو اردو ادب سے متعلّق کم وبیش تمام بڑے انعامات حاصل ہو چکے ہیں اور اُن کے ناولوں اور افسانوں کی قریب ڈیڑھ درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اردو کے علاوہ درجنوں زبانوں میں اُن کی کتابیں ترجمہ ہو کر اُن کی شہرت اور قبولیت میں اضافے کا باعث رہی۔
عبد الصمد کا پہلا ناول ۱۹۸۸ء میں ’دو گز زمین‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا تھا جس میں مشرقی پاکستان سے بنگلا دیش کی تشکیل اور پھر اُس سے پیدا شدہ صورتِ حال کے بارے میں تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی تھی۔ اِس سے پہلے اِس دَورانیے پر اردو میں کسی نے کوئی بڑی تحریر نہیں پیش کی تھی۔ غالباً یہی وجہ ہو گی کہ گذشتہ چار دہائیوں میں اردو میں جتنے بھی ناول لکھے گئے، اُن میں قبولِ عام کا درجہ ’دو گز زمین‘ سے بڑھ کر کسی دوسرے ناول کو حاصل نہیں ہوا۔ عبد الصمد نے ’دو گز زمین‘ کے بعد ’خوابوں کا سویرا‘، ’مہاتما‘، ’دھمک‘ اور ’مہاسا‘گر جیسے پَے بہ پَے ناول لکھے اور دیکھتے دیکھتے اردو میں ناول لکھنے کا ایک نئے سِرے سے ماحول قائم ہو گیا۔ گذشتہ چار دہائیوں میں اردو میں جو سیکڑوں ناول سامنے آئے، اس کی ترغیب عبد الصمد کے پہلے ناول ’دو گز زمین‘ سے ہی پیدا ہوئی اور اُس زمانے کے افراد خاص طور سے ۱۹۷۰ ء اور ۱۹۸۰ء کے بعد آنے والی نسل پر ناول نویسی کی طرف آنے کا اُنھوں نے ایک پُر کشش ماحول عطا کیا۔
عبد الصمد علمِ سیاسیات کے استاد رہے اور اُنھوں نے باضابطہ طور پر درسی ضرورتوں کے تحت اردو زبان کا مطالعہ نہیں کیا مگر اپنے ناولوں میں اپنی مادری زبان کو بنیاد بنا کر سیاسی اور سماجی مطالعات کا ایک شعور پیدا کیا۔ بے شک آزادی کے آس پاس کے ناول نگاروں کی بزرگ نسل قرۃ العین حیدر، عبد اللہ حسین، خدیجہ مستور، شوکت صدیقی، حیات اللہ انصاری وغیرہ کی طرح انھوں نے سماجی و سیاسی مطالعات کو اپنے ناولوں میں بنیاد ضرور بنایامگر اِس بات کا خیال رکھا کہ گفتگو آگے کی ہو۔ ’دھمک‘ میں نکسلزم موضوع ہوا تو ’مہاتما‘ میں یو نی ورسٹیوں اور کالجوں کی بد آعمالیاں، اُنھوں نے ہر تحریر سے ایک حلقے کو متوجّہ کیا۔
عبد الصمد کی ادبی تربیت میں ایک طرف ممتاز افسانہ نگار کلام حیدری کا بڑا ہاتھ ہے تو دوسری طرف احمد یوسف نے بھی اُن کی ابتدائی زمانے میں خوٗب خوٗب حوصلہ افزائی کی تھی۔ عبد الصمد کی نسل میں صوبۂ بہار سے چار فن کار قومی سطح پر ابھرے تھے۔ شوکت حیات، شفق، حسین الحق اور عبد الصمد۔ کم و بیش پچھلی چار دہائیوں سے اِنھی حضرات نے اردو فکشن میں بہار کی قومی اور عالَمی سطح پر نمایندگی کی۔ بعد میں غضنفر، شموئل احمد، ذکیہ مشہدی، مشرف عالَم ذوقی وغیرہ بھی اِس کارواں میں نمایاں ہوئے۔ عبد الصمد نے دس ناولوں کے ساتھ کم و بیش ۷۰۔ ۸۰؍ کہانیاں لکھی ہیں۔ اُنھوں نے خاکے بھی لکھے اور گذشتہ دنوں اُن کی خود نوشت بھی منظرِ عام پر آئی۔ اُن کے بعض تنقیدی مضامین بھی شائع ہوئے اورفنِ ترجمہ سے بھی کبھی کبھی اپنی آشنائی اور خدمات کا سرا جوڑ لیتے ہیں۔
عبد الصمد ۱۹۵۰ء میں پیدا ہوئے۔ اِس اعتبار سے اُن کی زندگی کے ۷۶؍ برس پورے ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے تصنیف و تالیف کے سلسلے سے ہمیشہ مستعدی برتی اور دوسرے تخلیق کاروں کی طرح سے اپنی تصنیفی زندگی میں بڑے وقفے نہیں آنے دیے جس کی وجہ سے تواتر کے ساتھ لکھنے، چھپنے اور سال در سال کتابوں کی آمد کا ایک ایسا نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم رہا جو اب بھی تنو مندی سے چل رہا ہے۔ اُن کے ہم عصروں میں شاید ہی کسی کا نام لیا جا سکے جنھوں نے مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے اُن سے بڑھ کر لکھا ہو۔ ایک کامیاب اور بھر پور تخلیقی زندگی کی وجہ سے اُن کی عزت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا گیا۔ملک کے ہر صوبے یا ملک کے باہر کے ادبی انعامات بھی اُنھیں ملے اور اب وہ ایک تخلیقی ریاضت کے ایک منبع کے طور پر ہمارے بیچ موجود ہیں۔گذشتہ زمانے میں صوبۂ بہار کی شناخت شاد عظیم آبادی، سہیل عظیم ٓبادی، قاضی عبد الودود اور کلیم احمد کے ناموں سے ہوتی تھی۔ آج اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ صوبہ ٔ بہار کی پہچان عبد الصمد کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اب بھی وہ نئی کتابوں پر کام کر رہے ہیں اور تصنیف و تالیف کا سلسلہ قائم ہے۔ دعا ہے کہ وہ صحت اور تندرستی کے ساتھ رہیں اور اسی طرح صوبۂ بہار اور اپنی زبان کی عزت میں اضافہ کرتے رہیں۔