پرائیوٹ اسکولوں کی من مانی پر روک ضروری

تاثیر 3 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئے تعلیمی سیشن 2026-27 کے آغاز کے ساتھ ہی بھارت کے متعدد ریاستوں میں نجی ا سکولوں کی طرف سے فیس میں غیر قانونی اضافہ، مہنگی کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان خریدنے کے لئے والدین پر دباؤ ڈالنے کے واقعات نے ایک بار پھر تعلیم کے کاروباری پہلو کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔
سہارنپور ، یو پی کے ضلع مجسٹریٹ نے اس حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں۔احکامات میںا سکولوں کا فیس ا سٹرکچر تین ماہ قبل شائع کرنے، کتابوں کی متعدد جگہوں پر دستیابی یقینی بنانے، پانچ سال سے پہلے یونیفارم تبدیل نہ کرنے اور ایک مخصوص دکان سے خریداری پر دباؤ نہ ڈالنے کی ہدایت شامل ہے۔ خلاف ورزی پر اسکول کی منظوری کو منسوخ کرنے اورایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ دوسری جانب دہلی میں نجی سکولوں کی فیس ریگولیشن قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر ہائی کورٹ میں   18 اپریل کو سماعت ہونے والی ہے۔جبکہ ہریانہ میں ،والدین نے بھی ایف ایف آر سی چیئرمین سے این سی آر ٹی کتابوں کی پابندی اور من مانی کے خلاف کارروائی کی اپیل کی ہے۔ یہ واقعات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تعلیم کا مقدس میدان بعض جگہوں پر نفع خوری کا ذریعہ بن چکا ہے۔
اِدھرنجی ا سکولوں کی من مانی کے چند اہم پہلو سامنے آئے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ فیس میں اچانک اور غیر شفاف اضافہ ہے۔ بہت سےا سکول بغیر مناسب نوٹس یا جواز کے فیس، بس کرایہ اور دیگر چارجز بڑھا دیتے ہیں، جس سے متوسط اور نچلے طبقے کے والدین شدید مالی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا استحصال کتابوں اور یونیفارم کا ہے۔ا سکول اکثر مخصوص دُکانوں یا اپنی دکان سے مہنگی کتابیں اور یونیفارم خریدنے پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں وہی اشیاء سستی دستیاب ہوتی ہیں۔ بعض ا سکول کتابوں کے ایڈیشن تبدیل کر کے پرانی کتابوں کے استعمال کو ناممکن بنا دیتے ہیں۔ یونیفارم کو بھی بار بار تبدیل کرنے کا رجحان عام ہے،اس سے والدین پر غیر ضروری بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ بستے کا وزن، اسٹیشنری اور دیگر لوازمات کے حوالے سے بھی اکثر والدین کو پریشان دیکھا جاتا ہے۔
ان مسائل کے پیچھے بنیادی وجہ تعلیم کو کاروبار میں تبدیل کرنا ہے۔ نجی ا سکولوں کا دعویٰ ہے کہ وہ معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں، جس کے لئے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی ا سکول منافع کی ہوس میں والدین کا استحصال کرتے ہیں۔ این سی آر ٹی کتابوں کی بجائے نجی پبلشرز کی مہنگی کتابیں لگانا، اسکول کے اندر یا مخصوص جگہ پر دکانیں کھولنا اور فیس کی مکمل تفصیلات نہیں دینا، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس سے نہ صرف والدین پریشان ہوتے ہیں بلکہ غریب بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے، جو معیار کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔اس طرح کی من مانی روکنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ ملک بھر کے تمام نجی سکولوں کےلئے ایک یکساں، سخت اور جامع قانون نافذ کیا جائے۔ اس قانون میں درج ذیل شقیں شامل ہونی چاہئیں: فیس میں اضافہ کی حد مقرر کرنا اور اسے تین ماہ قبل ویب سائٹ پر شائع کرنے کی پابندی، فیس کی مکمل تفصیل اور جواز پیش نہ کرنے پرا سکول کی منظوری منسوخ کرنے کا اختیار، کتابوں اور یونیفارم کی خریداری میں والدین کی آزادی کو یقینی بنانا۔اسکول صرف فہرست دے سکتے ہیں، مگر مخصوص دکان سے خریداری پر پابندی لگانا غیر قانونی قرار دیا جانا۔ این سی آر ٹی کتابوں کو ترجیحی طور پر لازمی بنایا جانا، یونیفارم کو پانچ سال سے پہلے تبدیل نہ کرنے کی شرط، سوائے خاص صورتوں کے، اسکولوں میں کتابوں، یونیفارم یا اسٹیشنری کی دکان کھولنے پر پابندی،  والدین کی شکایات کے لئے آسان، آن لائن اور مؤثر شکایت نظام قائم کرنا، جس میں ضلعی تعلیمی افسران اور فیس ریگولیٹری کمیٹی فوری کارروائی کریں، سکول بسوں اور دیگر سہولیات کا آن لائن رجسٹریشن اور آڈٹ لازمی بنانا۔
دہلی، اتر پردیش، ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں مقامی سطح پر اٹھائے گئے اقدامات قابل ستائش ہیں، لیکن یہ ٹھوس نتائج اس وقت تک نہیں دے سکتے جب تک ایک قومی سطح کا قانون نہ بنایا جائے۔مانا جا رہا ہے کہ 18 اپریل کو دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت اس معاملے میں کافی اہم ہوگی۔ا سکول انتظامیہ کا یہ موقف کہ انتظام کا حق منافع خوری کا حق نہیں دیتا، درست ہے۔ تعلیم ایک سماجی ذمہ داری ہے، نہ کہ صرف کاروبار۔
اس معاملے میںوالدین کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ وہ اسکولوں کی من مانی کے خلاف متحد ہو کر شکایات درج کروائیں، این سی آر ٹی کتابوں کا مطالبہ کریں اور بچوں کے بستے کا وزن چیک کریں۔ حکومت اور تعلیمی محکموں کو شفافیت یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ نگرانی اور جرمانے کا نظام مضبوط کرنا ہوگا۔بہر حال، نجی ا سکولوں میں معیار کی بہتری کے ساتھ ساتھ استحصال کی روک تھام بھی ضروری ہے۔ اگر ایک طرف سکول اچھی تعلیم فراہم کریں تو دوسری طرف والدین کو مالی بوجھ سے نجات بھی ملنی چاہئے۔ ایک مضبوط قومی قانون اور اس کی سخت نگرانی ہی اس مسئلے کا مستقل حل ہو سکتا ہے۔ تعلیم کا میدان استحصال کا مرکز نہیں ،قوم کی تعمیر کا ذریعہ بننا چاہئے۔ اس سمت میں فوری اقدامات سے ہی طلبہ اور والدین کو راحت مل سکے گی ۔
***************