بہار میں ہی گوتم بدھ اور مہاتما گاندھی نےعلم وعرفان حاصل کیا اور اپنی زندگی کا مقصد پایا: نائب صدر جمہوریہ

تاثیر 4 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

موتیہاری، 4 اپریل : بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کے موتیہاری میں مہاتما گاندھی سنٹرل یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں طلباء، اساتذہ اور اسکالر سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے بہار کے تاریخی اور نظریاتی ورثے کی تعریف کی۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ سرزمین “عظیم نظریات کی سرزمین” ہے، جہاں گوتم بدھ اور مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیات نے علم و عرفان حاصل کی اور اپنی زندگی کا مقصد طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی سرزمین پر بدھ مت، جین مت اور سوشلسٹ نظریہ نے جنم لیا۔ جے پرکاش نارائن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملک کے اخلاقی اور سیاسی شعور کو ایک نئی سمت دی۔ اپنی جوانی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے 1974 کے انقلاب میں اپنی شرکت کا بھی ذکر کیا۔سی پی رادھا کرشنن نے کہا، “بہار نے لوک نائک جے پرکاش نارائن جیسے بصیرت والے رہنما پیدا کیے ہیں، جنہوں نے ہندوستان کے اخلاقی اور سیاسی شعور کو تشکیل دیا۔ جب میں 18 یا 19 سال کا تھا کوئمبٹور کے ضلع جنرل سکریٹری کے طور پر 1974 کے انقلاب میں حصہ لیا تھا۔”انہوں نے کہا کہ ملک نے گزشتہ دہائی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔