امریکی جنگی طیارے کا گرایا جانا ایران کے ساتھ مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہو گا : امریکی صدر

تاثیر 4 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،04مارچ:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی رات اعلان کیا کہ امریکی جنگی طیارے کا گرایا جانا ایران کے ساتھ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا، یہ بات’این بی سی نیوز‘ کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ نے جمعہ کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کیے گئے ایک مختصر انٹرویو کے حوالے سے بتایا کہ وہ ابھی یہ طے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اگر ایران کے اوپر گرائے گئے جنگی طیارے کے عملے کا لاپتہ رکن زخمی پایا گیا تو امریکہ کیا کرے گا۔
اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس ممکنہ کارروائی کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے جو اس صورت میں کی جا سکتی ہے اگر ایرانی افواج اس پائلٹ تک پہنچ گئیں جس کا طیارہ گرایا گیا ہے۔ویب سائٹ ’نور نیوز‘ کے مطابق ایک ایرانی عہدے دار نے بتایا کہ “گرنے والے امریکی جنگی طیارے کے عملے کے لاپتہ رکن کی تلاش جاری ہے۔
ایران نے جمعہ کو ملک کے جنوب مغرب میں ایک امریکی جنگی طیارہ مار گرایا، اور امریکی افواج نے اس کے عملے کو بچانے کے لیے آپریشن کیا جس میں وہ ایک رکن کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئیں۔ایران نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے ایک ’ایف-35‘ جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگی طیارہ ایک نئے جدید دفاعی نظام کے ذریعے ایرانی فضائی حدود میں گرایا گیا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ مار گرایا جانے والا دوسرا’ایف-35‘ طیارہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا “طیارے کی مکمل تباہی کی وجہ سے پائلٹ کے انجام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں” اور بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پائلٹ کا زندہ بچنا مشکل ہے۔