بھارت – ایران تعلقات اور حکمت عملی کا تقاضہ

تاثیر 4 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تنازع کے درمیان بھارت کے لئے راحت سے متعلق ایک اہم خبر سامنے آئی ہے کہ بھارتی ایل پی جی ٹینکر ’’گرین سانوی‘‘ آبنائے ہر مز کو پار کر کے آگے بڑھ رہا ہے۔ شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم کے مطابق یہ علاقائی تنازع شروع ہونے کے بعد ساتواں بھارتی ایل پی جی ٹینکر ہے ،جو اس حساس راستے سے گزرا ہے۔ اس میں تقریباً 46 ہزار سے 58 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی موجود ہے۔ یہ کامیابی اس وقت ملی ہے ، جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا تھا اور عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔
اس کے علاوہ دو دیگر بھارتی ٹینکرز ’’جگ وکرم‘‘ اور ’’گرین آشا‘‘ اب بھی ہارموز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 17 بھارتی جہاز مغربی حصے میں انتظار کر رہے ہیں۔ بھارتی بحریہ نے ان کی حفاظت کے لئے الرٹ رہنے کا اشارہ دیا ہے۔ اس سے قبل شِوالک، نندا دیوی، جگ وسنت اور دیگر ٹینکرز بھی کامیابی سے پہنچ چکے ہیں۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے غیر دوستانہ جہازوں کے لئے رکاوٹیں کھڑی کیں، لیکن بھارتی جہازوں کو ایرانی علاقائی پانیوں کے قریب سے محفوظ راہ دی گئی۔ یہ بھارت کےلئے بڑی راحت ہے،کیونکہ ملک کی روزمرہ کی ایل پی جی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو سکتا تھا۔
دوسری طرف، ایران کی طرف سے ایک نیا خطرناک اشارہ آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اشاروں میں بتایاہے کہ تہران اب باب المندب پر بھی توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ دنیا کا کتنا تیل، گیس، گندم اور چاول اس راستے سے گزرتا ہے اور کون سے ممالک اس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ باب المندب، جو یمن اور جبوتی کے درمیان واقع ہے، بحر احمر کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے۔ اس کی چوڑائی صرف 20-30 کلومیٹر ہے اور اس سے روزانہ 88 لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔ اگر حوثی باغی، جو ایران کے حامی ہیں، اسے بند کر دیں تو عالمی تجارت اور یورپ اورایشیا کی سپلائی چین پر دوہرا دھچکا لگے گا۔
اِدھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے اہداف قریب ہیں اور جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایران کو ’’پتھر کے دور میں واپس بھیجنے‘‘ کی دھمکیاں دہرائی ہیں، لیکن آبنائے ہر مز کو کھولنے کے لئے اتحادیوں کو ذمہ داری سونپی ہے۔دوسری جانب امریکی عوام میں جنگ کی مخالفت مسلسل بڑھ رہی ہے اور تیل کی قیمتیں چار ڈالر فی گیلن سے اوپر جا چکی ہیں۔
ظاہر ہے، اس صورتحال کا بھارت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ بھارت تیل اور گیس کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے درآمد کرتا ہے۔آبنائے ہر مزپر بندش سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔یہ بھارت کے معاشی استحکام کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس تناظر میں ایران کا کردار اہم ہے۔ ایران بھارت کا دیرینہ دوست رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات مضبوط ہیں۔ چابہار پورٹ کی ترقی، انرجی تعاون اور تجارت میں ایران کا کردار بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کے لئے کلیدی ہے۔چنانچہ بھارت کے عوام کےایران کے تئیں نیک جذبےکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایرانی حکام نے بھارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر کے دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت کا مظہر ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تعلقات بہتر رہیں تو دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ ایران بھی بھارت جیسے بڑے مارکیٹ کو کھو کر خود کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ہے۔
اس صورتحال میں بھارت کی خارجہ پالیسی کو دانشمندی کے ساتھ ڈیل کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کی آڑ میں نہیں بلکہ قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہئیں ۔ ایران کے ساتھ مکالمہ جاری رہے، چابہار اور دیگر منصوبوں کو تیز کیا جائے اور توانائی کی سلامتی کے لئے متبادل راستے تلاش بھی ضروری ہے۔ جنگ کا خاتمہ جلد ہو اور خطے میں امن قائم ہو تو بھارت سمیت تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایران بھارت کا پرانا ہمدرد ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی احترام اور تعاون سے نہ صرف انرجی بحران سے نکلا جا سکتا ہے بلکہ علاقائی استحکام بھی ممکن ہے۔چنانچہ اگر ہم چاہیں تو جنگ کے درمیان دوستی اور امن کی راہ ضرور نکل سکتی ہے۔
*********