بنگال میں سیکولر ووٹروں کی پہلی پسند: ترنمول کانگریس

تاثیر 7 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

رپورٹ: شبانہ صدیقی

کولکاتا: مغربی بنگال میں آئندہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر ریاست کی سیاسی فضا گرم ہو چکی ہے اور تمام بڑی جماعتیں عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ووٹروں کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس پارٹی کو اپنا قیمتی ووٹ دیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سیکولر سوچ رکھنے والے عوام کی ایک بڑی تعداد ترنمول کانگریس کو ہی اپنی ترجیح دے رہی ہے۔ اس کی پہلی اور اہم وجہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں کو روکنا بتایا جا رہا ہے، جس کے لیے ترنمول کانگریس کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری بڑی وجہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں چلنے والی ریاستی حکومت کی فلاحی پالیسیاں ہیں۔ حکومت کی مختلف عوامی اسکیموں نے نہ صرف عام لوگوں کو سہارا دیا ہے بلکہ انہیں عملی طور پر فائدہ بھی پہنچایا ہے، جس کی مثال ماضی کی حکومتوں میں کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔

تیسری اہم وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اگر کسی ریاستی سطح پر مضبوط آواز بلند ہوئی ہے تو وہ ترنمول کانگریس ہی ہے۔ مبصرین کے مطابق نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی بعض عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج اور سیاسی مزاحمت میں بھی ترنمول کانگریس پیش پیش رہی ہے۔

اسی طرح ریاست کے مسلم اکثریتی علاقوں میں مذہبی آزادی کا ماحول بھی ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں مساجد میں اذان، جمعہ کی نماز اور دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی میں کسی بڑی رکاوٹ کی شکایت سامنے نہیں آتی۔ عوام کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ اگر فرقہ پرست طاقتیں اقتدار میں آتی ہیں تو اس ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات میں ترنمول کانگریس کے امیدواروں کو ووٹ دینا ریاست میں امن، ہم آہنگی اور سیکولر اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ بنگال کے عوام کا فیصلہ نہ صرف ریاست بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔