تاثیر 8 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن/تل ابیب/لبنان/اسلام آباد، 8 اپریل: امریکہ اور ایران دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ایران کے 10 نکاتی منصوبے پر یہ سمجھوتہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ آخری مہلت ختم ہونے سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے طے پایا۔ ٹرمپ نے منگل کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے تہران کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، ورنہ “پوری تہذیب کے خاتمے” کا سامنا کرے۔ تاہم منگل کی رات دیر گئے ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی منظوری کا اعلان ان کی اس سخت وارننگ کے بالکل برعکس تھا۔ یہ پیش رفت پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ثالثی کوششوں کے بعد سامنے آئی۔
گلف نیوز، الجزیرہ، تسنیم، سی بی ایس نیوز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایرانی فوج کی نگرانی میں دی جائے گی۔ عراقچی نے بدھ کی علی الصبح اپنے ایکس ہینڈل پر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے مجوزہ جنگ بندی کے حوالے سے بیان جاری کیا۔ اس میں کہا گیا کہ امریکہ کے 15 نکاتی اور ایران کے 10 نکاتی منصوبوں کے بعد امن کا یہ موقع پیدا ہوا ہے۔ بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم اور فوجی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن ہوگا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور کئی سینئر فوجی کمانڈرز ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ خلیجی ممالک تک پھیل گئی۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی قائم کر دی اور جہازوں کی آمد و رفت روک دی، جس کے باعث دنیا بھر میں تیل اور گیس کا بحران پیدا ہو گیا۔ جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت اس تنازع کے خاتمے کی علامت نہیں ہوگی، بلکہ سفارتی کوششوں کے تسلسل کا حصہ ہوگی۔

