بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا بھارت دورہ

تاثیر 8 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بنگلہ دیش کے نئے منتخب وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن کل 7 اپریل، 2026 کو نئی دہلی پہنچے ہیں۔ یہ ان کی تین روزہ سرکاری ملاقات ہے، جو بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال اور پٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقاتوں پر مشتمل ہے۔ یہ دورہ محض روایتی خانہ پری کے طور پر نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر محمد یونس کی عبوری حکومت کے دوران پیدا ہونے والی سرد  مہری کے بعد۔
یہ دورہ اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ خلیل الرحمٰن 9 اپریل کی صبح ماریشس جانے والی ایئر ماریشس کی پرواز میں جے شنکر کے ساتھ ساتھ سوار ہوں گے۔ سات آٹھ گھنٹے کی یہ لمبی پرواز’’فلائٹ ڈپلومیسی‘‘ کا ایک نادر موقع فراہم کرے گی، جہاں دونوں وزرائے خارجہ ذاتی سطح پر تفصیلی بات چیت کر سکیں گے۔ ماریشس میں ہونے والے 9ویں انڈین اوشن کانفرنس میں شرکت بھی اس دورے کا حصہ ہے، جو بھارت اور بنگلہ دیش دونوں کےلئے علاقائی تعاون کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
یونس کی عبوری حکومت (جو اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہوئی) کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی آئی تھی۔ اس دور میں بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی طرف جھکاؤ اور بھارت مخالف بیانات نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی پیدا کر دی۔ ٹرانس شپمنٹ سہولیات کی بندش، ویزا پابندیاں، سرحدی مسائل اور گنگا کےپانی کی تقسیم جیسے معاملات میں کشیدگی بڑھی۔ اب فروری ,2026 میںطارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کی حکومت کے قیام کے بعد دونوں طرف سے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں نظر آ رہی ہیں۔
بھارت اس دورے کو اہمیت دے رہا ہے۔ خلیل الرحمٰن کی ملاقاتیں نہ صرف دو طرفہ مسائل پر مرکوز ہوں گی بلکہ مستقبل میںطارق رحمان کی ممکنہ بھارت آمد کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی طرف سے گنگا پانی کے معاہدے کی تجدید، توانائی کی فراہمی (خاص طور پر ڈیزل)، ویزا خدمات کی بحالی، سرحدی ہلاکتوں پر قابو اور تجارت کی سہولیات کی واپسی جیسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے بھی توقع ہے کہ بنگلہ دیش سرحدی سلامتی، شمال مشرقی ریاستوں سے متعلق تحفظات اور بی آئی ایم ایس ٹیک جیسی علاقائی تنظیموں میں فعال کردار ادا کرے۔
تاریخی طور پر بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات گہرے رشتوں، تجارت اور ثقافتی تبادلے پر مبنی رہے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دور میں یہ تعلقات نسبتاً مستحکم تھے، لیکن سیاسی تبدیلیوں نے انہیں متاثر کیا۔ بی این پی کی سابقہ حکومتوں میں بھی بھارت کے ساتھ کچھ مسائل رہے، تاہم اب کی صورتحال مختلف ہے۔ جماعت اسلامی اب مرکزی اپوزیشن میں ہے اور بی این پی کی ’’بنگلہ دیش فرسٹ‘‘ پالیسی قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے متوازن خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس دورے میں مثبت نتائج کی امید کی جا سکتی ہے کیونکہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش کو توانائی کے بحران اور تجارت کی بحالی درکار ہے، جبکہ بھارت کو سرحدی استحکام اور علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں فریق
ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے عملی اقدامات کریں تو تعلقات میں بہتری ممکن ہے۔تاہم، چیلنجز بھی موجود ہیں۔ اعتماد کی بحالی میں وقت لگے گا۔ بھارت کی طرف سے سرحدی مسائل پر سخت موقف اور بنگلہ دیش کی طرف سے کثیر جہتی خارجہ پالیسی (چین، سعودی عرب اور امریکہ سمیت) دونوں کو متوازن انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ دورہ اگرچہ چھوٹا ہے، مگر اس کی کامیابی مستقبل کے لئے اہم اشارہ ہوگی۔دونوں ممالک کے درمیان پانی، تجارت، توانائی اور سلامتی جیسے مسائل کو باہمی احترام اور فائدے کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔’’فلائٹ ڈپلومیسی‘‘ کا یہ موقع اگر مؤثر ثابت ہوا تو یہ نہ صرف برف پگھلانے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کا راستہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
تعاون کی راہ میں رکاوٹیں ضرور ہیں، مگر سیاسی حکمت عملی اور سفارتی صبر سے انہیں عبور کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت دونوں کو ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے تاکہ ماضی کی سرد مہری کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔ یہ دورہ اگر مثبت سمت میں جاتا ہوا ثابت ہوا تو یہ خطے کے لئے ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔
***********