تاثیر 12 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 11 اپریل : مرکزی حکومت نے بھارت-نیپال تجارت پر بارہ بنکی-بہرائچ ہائی وے پروجیکٹ کے اثرات کے بارے میں ایک تفصیلی جائزہ جاری کیا ہے۔ قومی شاہراہ 927 کا یہ حصہ سرحد پار تجارت کے لیے ایک اہم جزو کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔روڈ ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی مرکزی وزارت کے مطابق، اس کے ذریعے سڑک رابطہ تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد ہو جائے گا۔ اس سے نیپال میں نیپال گنج کے راستے سامان کی نقل و حرکت میں اضافے کی توقع ہے۔ پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد، بارہ بنکی اور بہرائچ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 150 منٹ سے کم ہو کر صرف 75 منٹ رہ جائے گا۔ اوسط رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک دوگنی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں خاص طور پر خراب ہونے والی اشیا، جیسے سبزیوں اور دودھ کی مصنوعات سے وابستہ نقصانات میں کمی آئے گی۔مرکزی حکومت کا اندازہ ہے کہ اس راہداری کے ذریعے غذائی اجناس، دواسازی اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی نمایاں طور پر ہموار ہو جائے گی۔ ماضی میں، بارڈر پر ٹریفک کی بھیڑ اور تاخیر کی وجہ سے سپلائی چین میں اکثر خلل پڑتا تھا، جس سے تاجروں کو کروڑوں کا مالی نقصان ہوتا تھا۔ اس خطہ سے ٹرکوں کی نقل و حرکت میں اضافہ متوقع ہے، اس طرح لاجسٹکس، گودام اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔مرکزی کابینہ نے 18 مارچ کو اس پروجیکٹ کو منظوری دی تھی۔ اسے نیشنل ہائی وے-927 نیٹ ورک کے تحت 4 لین والے ہائی وے کے طور پر تیار کیا جانا ہے۔ بھارت اور نیپال کے درمیان زمینی تجارت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ فعال ہے۔ دراصل نیپال کے کل تجارتی حجم میں بھارت کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ روپیڈیہا-نیپال گنج سرحدی راستہ اس تجارت کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا ہے، جس سے غذائی اجناس، سبزیاں، دودھ کی مصنوعات، دواسازی اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑے پیمانے پر ترسیل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

