مصنوعی ذہانت صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں بلکہ ایک انسانی انقلاب ہے: نائب صدر جمہوریہ

تاثیر 15 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 15 اپریل : نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بدھ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں ہے بلکہ ایک “انسانی انقلاب” ہے جسے اچھی حکمرانی اور جامع معاشروں کی تعمیر کے لیے ذمہ داری اور وزن کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔نائب صدر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) کے 72 ویں یوم تاسیس کی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ‘اے آئی فار گڈ گورننس’ کے موضوع پر 5 واں ڈاکٹر راجندر پرساد سالانہ میموریل لیکچر بھی دیا۔پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی سادگی، ایمانداری اور عوامی خدمت کی اقدار کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی حکمرانی طاقت نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مشینیں سیکھ رہی ہیں اور نظام سوچ رہے ہیں۔ اے آئی حکومتوں کو شہریوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے اور خدمات کو زیادہ مؤثر طریقے سے فراہم کرنے کی صلاحیت دے رہا ہے۔