پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس

تاثیر 16 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پارلیمنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس کل 16 اپریل (جمعرات) سے شروع ہو گیا ہے۔ اس مختصر سیشن میں مرکزی حکومت نے تین اہم بل پیش کیے ہیں، جن پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔ ان بلز میں سب سے زیادہ توجہ خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی شکل دینے، لوک سبھا کی نشستیں بڑھانے اور نئے ڈی لیمٹیشن (انتخابی حدود کی دوبارہ تقسیم) پر ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات خواتین کو سیاست میں زیادہ جگہ دینے اور انتخابی نظام کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم اپوزیشن اور کچھ ریاستیں ان پر شدید خدشات اور مخالفت ظاہر کر رہی ہیں۔
حکومت کا کہناہے کہ 2023 میں منظور ہونے والے’’ ناری شکتی وندن قانون‘‘ میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا، لیکن اس کا نفاذ نئی مردم شماری اورڈی لیمٹیشن کے بعد ہونا تھا، جو 2034 تک ٹل سکتا تھا۔ اب اس تاخیر کو ختم کرنے کے لئے آئین (131ویں )ترمیمی بل، 2026پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کے تحت لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستیں بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے (815 ریاستیں اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے)۔ دوسرے بل سے 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نئے ڈی لیمٹیشن کمیشن بنانے کا راستہ کھلے گا۔ تیسرے بل کے ذریعے دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری جیسی جگہوں کی اسمبلیوں میں بھی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن مل سکے گا۔حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے تقریباً 280 نشستیں صرف خواتین کے لئے مخصوص ہو جائیں گی، انتخابی حلقے چھوٹے ہو جائیں گے اور نمائندگی زیادہ اچھی ہوگی۔ ریزرویشن 15 سال تک رہے گا اور اس میں دلت اور قبائلی خواتین کے لئے بھی جگہ ہوگی۔
اپوزیشن (انڈیا اتحاد) خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت نہیں کر رہا، بلکہ اس کی آڑ میں ہونے والے انتخابی تبدیلیوں پر سخت اعتراض کر رہا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ یہ بل دراصل انتخابی نقشے کو سرکاری جماعت کے فائدے میں بدلنے کی کوشش ہے۔ خاص طور پر ڈی لیمٹیشن کے لئے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنانے اور پارلیمنٹ کو یہ طاقت دینے کا معاملہ متنازع ہے کہ وہ کس مردم شماری کے اعداد و شمار استعمال کرے گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے آئندہ حکومتوں کو انتخابی حدود کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے میں آسانی ہو جائے گی اور ملک کا وفاقی توازن بگڑ سکتا ہے۔
سب سے بڑا اختلاف’’شمال اور جنوب‘‘ کے درمیان ہے۔ جنوبی ریاستیں (تمل ناڈو، کیرالہ، آندھرا پردیش وغیرہ) بہت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کامیابی سے چلائی، جس کی وجہ سے ان کی آبادی نسبتاً کم بڑھی۔ جبکہ شمالی ریاستیں (اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش وغیرہ) میں آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔ اگر 2011 کی مردم شماری کے حساب سے نشستیں بڑھائی گئیں تو شمالی ریاستیں بہت زیادہ نشستیں حاصل کر لیں گی اور جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو جائے گی۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے رہنما اسے خاندانی منصوبہ بندی کی سزا قرار دے رہے ہیں۔البتہ حکومت نے زبانی طور پر یقین دلایا ہے کہ جنوبی ریاستوں کا نقصان نہیں ہوگا، لیکن اس بارے میں کوئی واضح فارمولہ سامنے نہیں لایا گیا ہے۔
اپوزیشن کا ایک اور اہم مطالبہ ہے کہ او بی سی (پسماندہ طبقات) کی خواتین کے لئے الگ سب کوٹہ بھی رکھا جائے تاکہ ریزرویشن کے فائدے غریب اور پسماندہ خواتین تک بھی پہنچیں۔ویسے عددی طاقت دیکھیں تو این ڈی اے کے پاس لوک سبھا میں 293 سیٹیں ہیں جبکہ انڈیا اتحاد  کے پاس 235 سیٹیں ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت آئینی ترمیم کے لئے دونوں ایوانوں میں حاضر اراکین کا دو تہائی (خاص) اکثریت درکار ہے۔ لوک سبھا میں تقریباً 360 ووٹس کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے حکومت کو اپوزیشن کے کچھ حصے کی حمایت بھی حاصل کرنی ہوگی۔ اگر اپوزیشن متحد رہا تو بل پاس کروانا آسان نہیں ہوگا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا یقیناً ایک اچھا قدم ہے، جو معاشرے میں مرد و عورت کے درمیان برابری کو فروغ دے سکتا ہے۔ مگر ڈی لیمٹیشن اور نشستیں بڑھانے کا کام وفاقی ڈھانچے، علاقائی انصاف اور آئینی اصولوں کے مطابق شفاف اور متوازن ہونا چاہئے۔ ویسےحکومت کو اپوزیشن کے خدشات کو سنجیدگی سے سننا چاہئے، جنوبی ریاستوں کو مکمل یقین دہانی کرنی چاہئے اور اگر ممکن ہو تو او بی سی خواتین کے لئے الگ کوٹہ پر بھی غور کرنا چاہئے۔اپوزیشن کو بھی صرف مخالفت تک محدود نہ رہ کر اچھی تجاویز پیش کرنی چاہئیں تاکہ خواتین کی بااختیاری کا یہ اہم موقع سیاسی لڑائی کا شکار نہ ہو جائے۔ویسےاگر تمام فریق قومی مفاد کو اولیت دیں تو یہ بل نہ صرف خواتین کو سیاسی طور پر مضبوط کریں گے بلکہ بھارت کے انتخابی نظام کو بھی زیادہ نمائندہ اور بہتر بنا سکتے ہیں۔
***********