تاثیر 18 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مظفر پور (نزہت جہاں)
بہار میں نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی خالی نشستوں پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر منگل پانڈے کے اسمبلی کا انتخاب جیتنے کے بعد ان کی کونسل کی نشست خالی ہو گئی تھی، جس پر اب الیکشن کمیشن نے 12 مئی کو ضمنی انتخاب کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی دن ووٹنگ ہوگی اور نتائج بھی جاری کر دیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ نشست تقریباً طے مانی جا رہی ہے کہ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپندر کشواہا کے صاحبزادے دیپک پرکاش کو ملے گی۔ دیپک پرکاش پہلے ہی وزیر بنائے جا چکے ہیں، لیکن وہ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی رکن کونسل، اس لیے آئینی تقاضے کے تحت انہیں چھ ماہ کے اندر کسی ایوان کا رکن بننا ضروری ہے۔ ادھر بھوجپور-بکسر لوکل اتھارٹی سیٹ پر بھی مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے۔ آر جے ڈی نے سونو کمار رائے کو میدان میں اتارا ہے، جبکہ جے ڈی یو نے کنہیا پرساد کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس طرح یہ مقابلہ دو سیاسی خاندانوں کے درمیان وقار کی جنگ بن گیا ہے۔
اصل سیاسی مقابلہ جون میں دیکھنے کو ملے گا، جب قانون ساز کونسل کی 9 نشستیں خالی ہو جائیں گی۔ ان نشستوں پر اس وقت آر جے ڈی، جے ڈی یو، کانگریس اور بی جے پی کا قبضہ ہے۔ مختلف پارٹیوں کے کئی بڑے لیڈروں کی مدت ختم ہو رہی ہے، جس سے سیاسی جوڑ توڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور جے ڈی یو کے بھگوان سنگھ کشواہا کی نشستیں پہلے ہی خالی ہو چکی ہیں، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد ان کی نشست بھی خالی ہے۔
سیاسی فارمولے کے مطابق 9 نشستوں میں سے جے ڈی یو کو 4، بی جے پی کو 3، آر ایل ایم کو 1 اور آر جے ڈی کو 1 نشست مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی (رام ولاس) بھی پہلی بار کونسل میں داخلہ لے سکتی ہے۔ ہر نشست کے لیے تقریباً 25 اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری ہوگی، جس کے باعث سیاسی بساط پر جوڑ توڑ اور حکمت عملی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ مجموعی طور پر بہار میں ایم ایل سی کے یہ انتخابات محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے دنوں کی سیاست کا رخ طے کرنے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ 12 مئی سے شروع ہونے والی یہ انتخابی سرگرمیاں جون میں بڑے سیاسی مقابلے کی شکل اختیار کر لیں گی۔

