عوام کا اعتماد ہی جمہوری نظام کی اصل طاقت

تاثیر 24 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

بھارت کی جمہوری روایت ایک بار پھر انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ابھی ایک طرف جہاں ریکارڈ توڑ ووٹنگ عوامی جوش و خروش کی عکاسی کر رہی ہے، تو دوسری طرف انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور درستگی پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں تقریباً 65 انتخابی ڈیوٹی افسران کے نام اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے بعد ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کا معاملہ اسی تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اس سلسلے میں جب متاثرہ افسران نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کیا تو عدالت عظمیٰ نے براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے انہیں اپیلیٹ ٹریبونلز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے،چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم بنچ نے واضح کیا ہے کہ قانونی طریقۂ کار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بظاہر یہ فیصلہ آئینی اصولوں کے مطابق ہے، مگر اس سے ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: انتخابی عمل میں شامل اہلکار خود اپنے ووٹ کے حق سے محروم رہ جائیں تو یہ کیا جمہوری روح کے منافی نہیں ہے؟ اس معاملے میں یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ انتخابی عمل کی کامیابی انھی اہلکاروں کی محنت اور دیانت داری پر منحصر ہوتی ہے، لہٰذا ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ریکارڈ ووٹنگ نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ عوام جمہوریت پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔ تمل ناڈو میں 84 فیصد سے زائد اور مغربی بنگال میں 91 فیصد سے زیادہ ووٹنگ، خصوصاً خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت، ایک مثبت سماجی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف انتخابی عمل کو مضبوط بناتا ہے بلکہ صنفی مساوات کی جانب بھی اہم قدم ہے۔ مزید برآں، دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں ووٹرز کی یکساں دلچسپی اس امر کی دلیل ہے کہ جمہوریت کی جڑیں اب معاشرے کے ہر طبقے میں مضبوط ہو رہی ہیں۔تاہم، بلند شرحِ ووٹنگ کے ساتھ ساتھ ووٹر لسٹ کی درستگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر فہرستوں میں خامیاں ہوں یا اہل افراد کے نام حذف ہو جائیں تو یہ جمہوری عمل کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ افسران جو خود انتخابی عمل کا حصہ ہیں، اگر وہی اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائیں تو یہ ایک تشویشناک علامت ہے۔ اس ضمن میں ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹل ویریفکیشن اور شفاف ڈیٹا مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسی غلطیوں کی گنجائش کم سے کم ہو سکے۔
اسی دوران سیاسی سرگرمیاں بھی اپنے عروج پر ہیں۔ اروند کیجریوال کا مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی حمایت میں انتخابی مہم چلانا اپوزیشن اتحاد کی نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ سیاسی اتحاد جہاں ایک طرف انتخابی مقابلے کو دلچسپ بناتا ہے، وہیں دوسری طرف اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ جمہوریت میں اتحاد اور اختلاف دونوں کی گنجائش ہے۔ ایسے اتحاد مستقبل کی قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں اور علاقائی جماعتوں کے کردار کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ انتخابی ادارے نہ صرف ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنائیں بلکہ ووٹر لسٹ کی تیاری اور نظرثانی کے عمل کو بھی مکمل طور پر منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنائیں۔ اپیلیٹ ٹریبونلز کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے معاملات کو فوری اور منصفانہ طریقے سے حل کریں تاکہ کسی شہری کا بنیادی حق متاثر نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ ووٹرز خود اپنی معلومات کی درستگی کے اپ ڈیشن یقینی بنا سکیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ ہر شہری کو اس حق تک بلا رکاوٹ رسائی دینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جب تک ووٹر لسٹیں مکمل، درست اور شفاف نہیں ہوں گی، تب تک بلند شرحِ ووٹنگ بھی ادھوری کامیابی ہی سمجھی جائے گی۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک کے لئے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی انتخابی بنیادوں کو مزید مضبوط کرے تاکہ عوام کا اعتماد نہ صرف برقرار رہے بلکہ مزید مستحکم ہو۔ یہی اعتماد کسی بھی جمہوری نظام کی اصل طاقت اور اس کی پائیداری کی ضمانت ہوتا ہے۔
********