پنجاب کی سیاست میں ہلچل

تاثیر 25 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

پنجاب کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اندر بغاوت نے پورے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اسمبلی انتخابات سے محض چند ماہ قبل سات راجیہ سبھا اراکین کا پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا نہ صرف ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے بلکہ آنے والے انتخابات کے نتائج پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پنجاب میں سیاسی وفاداریاں اب پہلے کی طرح مستحکم نہیں رہیں اور اقتدار کی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔بغاوت کرنے والے رہنماؤں میں راگھو چڈھا، اشوک مِتّل، ہربھجن سنگھ اور دیگر شامل ہیں، جو نہ صرف سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ مختلف سماجی طبقات میں بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان رہنماؤں کی یکجا طور پر بی جے پی میں شمولیت اس جماعت کے لئے ایک بڑا موقع بن سکتی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ 2022 کے انتخابات میں بی جے پی کو پنجاب میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
دوسری طرف بھگونت مان کی قیادت میں عام آدمی پارٹی اس بحران کو کم تر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ یہ ارکان براہ راست عوامی نمائندے نہیں تھے، اس لئے پارٹی کی جڑیں کمزور نہیں ہوں گی۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ رہنما آئندہ انتخابات میں مخالف صفوں میں کھڑے ہو کر پارٹی کے لئے چیلنج پیدا کریں گے۔ اس لئے  عام آدمی پارٹی کے لیے یہ محض عددی نقصان نہیں بلکہ سیاسی ساکھ کا مسئلہ بھی ہے۔ مزید یہ کہ پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط، قیادت پر اعتماد اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں، جن کا بروقت اور مؤثر جواب دینا ناگزیر ہوگا۔
بی جے پی اس صورتحال کو ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی واضح ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کے ناراض اور بااثر رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملا کر پنجاب میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرے۔ اس ضمن میں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پارٹی پہلے ہی کپتان امریندر سنگھ اور سنیل جاکھڑ جیسے اہم ناموں کو اپنے ساتھ جوڑ چکی ہے۔ اس تسلسل میں حالیہ پیش رفت بی جے پی کے طویل المدتی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو پنجاب میں بی جے پی کی سیاسی حیثیت، جو ماضی میں نسبتاً کمزور سمجھی جاتی تھی، نمایاں طور پر مضبوط ہو سکتی ہے۔تاہم، اس تمام سیاسی ہلچل کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بار بار وفاداریوں کی تبدیلی جمہوری اقدار کے لئے ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ کیا سیاسی رہنماؤں کا اس طرح جماعتیں بدلنا عوامی مینڈیٹ کے احترام کے منافی نہیں ہے؟ خاص طور پر جب یہ تبدیلیاں انتخابی موسم کے قریب ہوں تو اس سے ووٹرز میں بداعتمادی پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رجحان سیاسی نظریات کے بجائے مفادات کی سیاست کو فروغ دیتا ہے، جو طویل مدت میں جمہوری اداروں کو کمزور کر سکتا ہے۔
ادھر انڈین نیشنل کانگریس اور شیرو مَنی اکالی دل بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں جماعتیں اس سیاسی خلا کو پر کرنے اور اپنے روایتی ووٹ بینک کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس طرح پنجاب کی سیاست ایک کثیر جہتی مقابلے کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ہر جماعت اپنی بقا اور برتری کے لئے کوشاں ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اتحاد، مفاہمت اور نئے سیاسی محاذ بھی دیکھنے کو ملیں، جو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوں گے۔
موجودہ حالات میں عام آدمی پارٹی کے لئے سب سے بڑا چیلنج اپنی تنظیم کو مضبوط رکھنا اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اگر پارٹی اس بحران کو مؤثر انداز میں سنبھال لیتی ہے تو یہ اس کے لئے ایک نئی شروعات بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قیادت کارکنان سے براہِ راست رابطہ بڑھائے، شفافیت کو فروغ دے اور عوامی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز رکھے تاکہ سیاسی نقصان کی تلافی ممکن ہو سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب کی سیاست میں یہ حالیہ پیش رفت محض ایک وقتی ہلچل نہیں بلکہ ایک گہری تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ آیا یہ تبدیلی جمہوریت کو مضبوط بناتی ہے یا سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھاتی ہے۔ ووٹرز کے لئے بھی یہ ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ نہ صرف نعروں بلکہ عملی کارکردگی، قیادت کی سنجیدگی اور سیاسی دیانت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کریں، کیونکہ بالآخر جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے باشعور انتخاب میں ہی مضمر ہے۔
****