تاثیر 26 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
معاشی، سماجی اور تعلیمی بیداری کا لیا گیا عہد
چھپرہ
شہر کے آڈیٹوریم میں اتوار کو سائیں-شاہ سماج کی جانب سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں برادری کے معاشی،سماجی اور سیاسی فروغ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سماج سے صرف ووٹ لینے کا کام کیا ہے۔مگر اس کی ترقی اور حقوق کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج کے ضلع صدر انجینئر دانش ہشام نے کہا کہ یہ برادری آج بھی نظر انداز اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں اور تعلیم،روزگار اور سماجی بیداری پر خاص توجہ دیں۔بھاگلپور سے آئے سماجی کارکن و سابق مکھیا محمد کلام الدین نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی توجہ اس برادری کی ہمہ جہت ترقی کی طرف مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیں-شاہ سماج آج بھی سماجی اور معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی جائیں اور سرکاری فوائد آخری فرد تک پہنچائے جائیں۔اس موقع پر کلام میموریل ٹرسٹ کے قومی سکریٹری محمد مِٹّھو شاہ نے کہا کہ آزادی کے 77 برس بعد بھی اس برادری کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کمیونٹی کو بھی سیاسی نمائندگی میں مناسب مقام دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کے نمائندوں کو اسمبلی، قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا جیسے اہم ایوانوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز بلند ہو سکے۔کانفرنس کے نائب صدر شمیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ قدم اٹھائے تو نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس میں جنرل سیکرٹری محمد شہاب الدین،ضلع صدر محمد شمیم،چھپرہ صدر محمد اصغر علی،انجینئر شمشیر عالم،مظہر حسین،صفدر حسین،حاجی ہشام الدین،نظام شاہ سمیت بڑی تعداد میں برادری کے افراد موجود تھے۔

