سب کی نظریں 34 لاکھ اضافی ووٹرز پر

تاثیر 30 اپریل ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 نے ریکارڈ ووٹنگ کے ساتھ ایک دلچسپ سوال کھڑا کر دیا ہے۔ 2021 میں جہاں تقریباً 5.98 کروڑ ووٹرز نے حصہ لیا تھا، اس بار یہ تعداد بڑھ کر 6.31 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ اضافہ’’اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) ‘‘ کے دوران لاکھوں ناموں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے کے باوجود ہوا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 93 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو بنگال کے انتخابی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ اب سب کی نظریں ان34 لاکھ اضافی ووٹرز پر ہیں کہ آیا یہ نئے ووٹ بینک ریاست کی سیاسی سمت بدل دیں گے یا موجودہ طاقت کے توازن کو مزید مستحکم کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2021 میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے بی جے پی سے تقریباً 60 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ ایسے میں یہ اضافی ووٹرز دونوں بڑی پارٹیوں کے لئے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی (تقریباً 2.5 لاکھ جوان) سے خوف کا ماحول ختم ہوا اور لوگ بلا جھجھک ووٹ ڈالنے نکلے۔ شہری علاقوں میں پولنگ بوتھ رہائشی کمپلیکس کے اندر بنانے سے بھی ٹرن آؤٹ بڑھا، جسے پارٹی ’’تبدیلی کا ووٹ‘‘ قرار دے رہی ہے۔ بی جے پی کا خیال ہے کہ یہ اقتدار مخالف لہر کی علامت ہے۔دوسری طرف، ٹی ایم سی ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ایس آئی آر کے خلاف عوامی ناراضگی نے اس کے حامیوں کو متحرک کیا۔ پارٹی کا موقف ہے کہ لوگ اس لئے بڑی تعداد میں نکلے تاکہ مستقبل میں ان کے نام ووٹر لسٹ سے نہ ہٹائے جائیں۔ ٹی ایم سی اسے’’جوابی یکجہتی‘‘ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے اور ہائی ووٹنگ فیصد کو اپنے حق میں مثبت اشارہ سمجھ رہی ہے۔
انتخاب دو مرحلوں میں ہوئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 سیٹوں پر 23 اپریل کو 93.19 فیصد اور دوسرے مرحلے میں 142 سیٹوں پر 29 اپریل کو تقریباً 90 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی۔ کل 6.82 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز میں خواتین کی شرکت خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ کچھ علاقوں جیسے کیننگ ایسٹ میں 97.7 فیصد ووٹنگ ہوئی، جو ریاست میں سب سے زیادہ ہے۔
ایگزٹ پولز میں صورتحال مخلوط دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ پولز بی جے پی کو 146 سے 175 سیٹوں کے درمیان دکھا رہے ہیں جبکہ ٹی ایم سی کو 118 سے 140 کے قریب۔ دوسرے پولز ٹی ایم سی کو 177-187 سیٹوں کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 148 سیٹوں کی ضرورت ہے، اس لیے مقابلہ انتہائی نزدیک ہے۔ سٹا بازار بھی کانٹے کی ٹکر کی پیش گوئی کر رہا ہے، جہاں بی جے پی کو ہلکی سی برتری دی جا رہی ہے۔تاہم، ایگزٹ پولز ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے۔ 2021 میں بھی کئی سروے ٹی ایم سی کی جیت کو کم کر کے پیش کر چکے تھے۔ ٹی ایم سی لیڈرز جیسے شیوداسن داسو اور جوئے پرکاش مجمدار نے ایگزٹ پولز پر شک کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  بنگال کے لوگ سیاست میں بالغ ہیں اور ووٹنگ کو جمہوریت کا تہوار سمجھتے ہیں۔ بی جے پی لیڈرز، بشمول دلپ گھوش اور دیگر، نے ایس آئی آر  کو غیر ضروری مسئلہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ عوام ٹی ایم سی کی ’’بدعنوانی اور بدانتظامی ‘‘سے تنگ آ کر تبدیلی چاہتے ہیں۔
اس انتخاب میں چند اہم عوامل نے کردار کیا ہے ، ان میں بے روزگاری، قانون و انتظام کی صورتحال، کئی ٹی ایم سی لیڈروں کے متنازع بیانات، اور ایس آئی آر کی وجہ سے پیدا ہونے والا تناؤ شامل ہے۔ووٹنگ بعض علاقوں میں تشدد کی بھی اطلاعات آئی تھیں، جن میں بی جے پی کے پولنگ ایجنٹ کے گھر پر حملے کی خبر شامل ہے۔نتائج سے پہلے سیاسی بیان بازی عروج پر ہے۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں کے لیڈرز ایگزٹ پولز کو ’’وھاٹس ایپ یونیورسٹی کے موسم کی پیش گوئی‘‘ قرار دے رہے ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
بنگال کا یہ انتخاب صرف دو بڑی پارٹیوں کے درمیان نہیں بلکہ ریاست کی شناخت، ترقی کے ماڈل اور ووٹر لسٹ کی شفافیت جیسے مسائل پر بھی ہے۔ 34 لاکھ اضافی ووٹرز اگر واقعی ’’تبدیلی‘‘ کے حق میں نکلے تو سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے۔ اگر وہ ٹی ایم سی کی حمایت میں ثابت ہوئے تو ممتا بنرجی کی قیادت میں پارٹی کی واپسی ممکن ہے۔بلاشبہ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ ہائی ٹرن آؤٹ بذات خود مثبت ہے، کیونکہ یہ شہریوں کی سیاسی بیداری کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، حتمی نتیجہ آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہئے۔ اس بار کے انتخابات میں بنگال کی عوام نے جم کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ اب 4 مئی کو ان کا واضح فیصلہ سامنے آئے گا کہ آیا یہ اضافی ووٹس اقتدارکی سمت بدلیں گے یا موجودہ سیاسی طاقت کے توازن کو ہی برقرار رکھیں گے۔
*******