جمہوریت کا پرچم سب سے بلند

تاثیر 3 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

آج 4 مئی ہے۔آج آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آسام میں بی جے پی، کیرالہ میں بائیں محاذ یا کانگریس، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے، پڈوچیری میں این آر کانگریس-بی جے پی اتحاد کا پرچم بلند ہونے کا امکان ہے۔ جہاں تک مغربی بنگال کی بات ہے، وہاں شروع سے ہی غضب کا گھماسان ہے۔ریاست کی دونوں اہم سیاسی جماعتیں گرچہ اپنے اپنے ڈھنگ سے دعوے کر تی آ رہی ہیں،مگر عوامی رجحان کے حوالے سے آئے ابتک کے اگزٹ پولز کے مطابق بی جےپی اور ترنمول کانگریس میں کانٹے کی ٹکر ہے، اور اس ٹکر میں کبھی ترنمول کانگریس اورکبھی بی جے پی کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دیتی رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ریاست میں مقامی سیاسی مزاج، اتحاد، اور ووٹرز کی ترجیحات الگ الگ ہیں اور اسی اعتبار سے وہاں کے نتائج بھی آنے والے ہیں۔ مگر ان میں سے ریاست مغربی بنگال کی بات سب سے الگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بیشتر نگاہیں مغربی بنگال کے نتائج پر ٹکی ہوئی ہیں۔
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات کا طویل اور شدید انتخابی مقابلہ مکمل ہو چکا ہے۔آج ووٹوں کی گنتی کا دن ہے، مگر اس سے پہلے ہی سٹا بازار، ایگزٹ پولز نے ایک دلچسپ اور حیران کن کھیل شروع کر دیا ہے۔ فلوڈی سٹا بازار جہاں پہلے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو واضح برتری دے رہا تھا، اب بی جے پی کو 150-152 سیٹوں کا حامل دکھا رہا ہے، جو مطلوبہ 148 کی اکثریت سے زیادہ ہے۔دیگر ایگزٹ پولز بھی بی جے پی کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں جبکہ ممتا بنرجی کی پارٹی کے لئے قانونی اور سیاسی محاذ پر ایک کے بعد ایک جھٹکے لگتے رہے ہیں۔
یہ صورتحال یقیناً دلچسپ ہے۔ ریکارڈ توڑ ووٹنگ (بعض مراحل میں 92-93 فیصد) نے سیاسی تجزیہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ ووٹنگ اینٹی انکمبنسی (سرکار مخالف لہر) کی علامت ہے یا بس عام شہریوں کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور؟ سٹا بازار کے رجحانات بدلے، کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے ووٹ گنتی کے لئے مرکزی ملازمین کی تعیناتی کی منظوری دی، اور ٹی ایم سی کی اپیلز مسترد ہوئیں۔ ان سب نے ممتا بنرجی کے کیمپ میں فکر مندی پیدا کر دی ہے جبکہ بی جے پی کے حلقوں میں امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔تاہم، تمام پارٹیاں،ٹی ایم سی، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو—اپنے اپنے دعووں پر قائم ہیں۔ ٹی ایم سی لیڈرز 200 سے زائد سیٹوں کی بات کر رہے ہیں اور ایگزٹ پولز کو مسترد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ زمینی حقیقت مختلف ہے۔ بی جے پی لیڈرز مکمل اکثریت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہ اعتماد انتخابی سیاست کا حصہ ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ حتمی فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، جو آج سامنے آئے گا۔
اس انتخابی عمل کی سب سے اہم بات نسبتاً پرامن ماحول رہا ہے۔ اگرچہ کچھ جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں، مگر مجموعی طور پر بنگال کے تشدد زدہ انتخابی ماحول سے ہٹ کر یہ ایک بہتر تجربہ رہا۔ مرکزی دستوں کی تعیناتی اور انتخابی کمیشن کی نگرانی نے شہریوں کو نسبتاً محفوظ احساس دلایا۔ بھوانی پور جیسے اہم حلقوں میں ممتا بنرجی اور شبھندو ادھیکاری کے درمیان براہ راست مقابلہ، ریکارڈ ووٹنگ اور سیاسی الزامات و تردیدات،سب کچھ بنگال کی سیاست کی شدت کو ظاہر کرتا رہا ہے۔اس موقع پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی پارٹی جیتے یا ہارے، بھارت کی جمہوری اقدار کا پرچم ہمیشہ بلند رہنا چاہئے۔ انتخابات جمہوریت کا اصل امتحان ہوتے ہیں۔ نتائج کس کے حق میں جائیں، اس سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہارنے والا نتیجہ قبول کرے، جیتنے والا توازن برقرار رکھے اور ریاست میں امن و قانون کی حکمرانی قائم رہے۔ ماضی میں بنگال میں انتخابی تشدد اور بداعتمادی کے جو واقعات دیکھے گئے، ان سے سبق سیکھتے ہوئے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
سٹا بازار کے اعداد و شمار دلچسپ ہوتے ہیں مگر حتمی نہیں۔ ایگزٹ پولز بھی اکثر غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اصل طاقت عوام کی مرضی میں ہے، جو خفیہ طور پر بیلٹ باکس میں منتقل ہوتی ہے۔ بنگال کے عوام،چاہے وہ دیہی علاقوں کے کسان ہوں، کولکاتا کے شہری ہوں یا چائے باغان کے مزدور،نے بھاری تعداد میں ووٹ ڈال کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں یا موجودہ نظام کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ انہی کا ہے۔ ایسے میںسیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ نتائج کے بعد بھی وفاقیت، سیکولرزم اور آئینی اصولوں کا احترام کریں۔ اقلیتوں کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی کو کوئی بھی نئی حکومت نظر انداز نہ کرے۔ بنگال کی سیاست میں جو بھی نتیجہ نکلے، اسے بھارت کی کثیر المذاہب، کثیر الثقافتی جمہوریت کی فتح کے طور پر دیکھا جائے۔
4 مئی کا انتظار ختم ہوچکا ہے۔ اب نتائج جو بھی ہوں، سب سے بڑی جیت جمہوریت کی ہی ہوگی،بشرطیکہ تمام فریقین اسے قبول کریں، امن برقرار رکھیں اور عوام کی خدمت کو اپنا مشن بنائیں۔ بنگال کی سیاست میں نئے باب کا آغاز ہو یا پرانا تسلسل جاری رہے، ملک کے جمہوری اقدار کو ہر صورت بلند رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
**************