تاثیر 4 مئی ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دے کر عالمی سیاست میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔ فلوریڈا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران ’’غلط رویہ ‘‘ اختیار کرتا ہے تو امریکہ اپنے حملے دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے امن تجاویز کو مسترد کرنے کا اشارہ بھی دیا اور دعویٰ کیا کہ پچھلے 47 سالوں میں ایران نے ’’انسانیت اور دنیا‘‘ کے ساتھ جو کیا ہے، اس کی قیمت نہیں چکائی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے پاکستان کو ثالث کے طور پر منتخب کرتے ہوئے جنگ کے مستقل خاتمے کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ اب ’’گیند امریکہ کے میدان میں ہے‘‘۔یہ صورتحال خلیج فارس میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں آبنائے ہرمز پر کنٹرول مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایران اس آبنائے ہر مز کو اپنے علاقائی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے اور اس پر ٹول لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ٹرمپ نے خود امریکی بحریہ کے ایک ایرانی جہاز پر قبضے کو’’سمندری ڈاکو‘‘ کی کارروائی سے تشبیہ دی، جو ان کی پالیسی کی جارحانہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں۔ ٹرمپ کی پہلی صدارت میں بھی ’’میکسیمم پریشر‘‘ کی پالیسی کے تحت ایران پر شدید پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور قاسم سلیمانی جیسی شخصیت کے قتل جیسے اقدامات کیے گئے۔ موجودہ بیان بھی تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اسرائیل کی حمایت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹ کام کا اعتراف ہے کہ ناکہ بندی کی وجہ سے متعدد جہازوں کو راستہ تبدیل کرنا پڑا، جو عالمی تجارت پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔دوسری جانب ایران نے نسبتاً بالغانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اس کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکہ اور اسرائیل حملہ نہ کرنے کی ضمانت دیں، ناکہ بندی ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز کھول دیا جائے۔ اس کے بعد جوہری معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے، جس میں ایران اپنے پرامن جوہری حقوق کا مطالبہ کرے گا۔ ایرانی فوجی حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر حملے ہوئے تو وہ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایران کا موقف جائز ہے کہ وہ ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے علاقائی پانیوں پر کنٹرول کا حق رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر ایران اسے بند کر دے تو عالمی معیشت متاثر ہوگی، لیکن ایران بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ اسے آخری حربہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ کی ’’سمندری ڈاکو‘‘والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ایک طاقتور ملک کا دوسرے ملک کے جہازوں پر قبضہ کرنا اور اسے’’منافع بخش کاروبار‘‘ قرار دینا افسوسناک ہے۔تاہم یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ایران کی علاقائی پالیسیاں، بالخصوص اس کے پراکسی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ، سعودی عرب، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے لیے تشویش کا باعث رہی ہیں۔ جوہری پروگرام پر بھی شفافیت کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ پھر بھی، امریکہ کی یک طرفہ جارحیت، پابندیوں اور فوجی دھمکیوں نے ایران کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ پچھلے کئی دہائیوں سے ایران پر مسلط کی جانے والی پابندیاں اس کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی
ہیں، مگر ایرانی قوم نے حیران کن استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسے میںعالمی برادری، خصوصاً چین، روس اور یورپی ممالک کو چاہیے کہ وہ اس تنازعے میں فعال کردار ادا کریں۔ جنگ کا کوئی فریق نہیں جیت سکتا۔ اس سے تیل کی قیمتیں آسمان چھو لیں گی، مہنگائی بڑھے گی اور لاکھوں انسانی جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے ایران کے تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ 47 سالہ دشمنی کو ختم کرنے کا موقع ہے۔ ایران نے امن کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ اگر امریکہ اسے تھام لیتا ہے تو خلیج میں استحکام آ سکتا ہے، ورنہ نئی جنگ کا خطرہ پورے خطے کو نذر کر دے گا۔ تاریخ ثابت کر چکی ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل حل نہیں کرتا، بلکہ نئے مسائل پیدا کرتا ہے۔ بالآخر عالمی استحکام کے لئےامن اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
**********

